جنگلی گدھے:
(1831)…حضرتِ سیِّدُنا مسلمہ بن جعفر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کو فرماتے سنا کہ جب اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے محبوب حضرت سیِّدُنا محمد مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مبعوث فرمایا تو اہل عرب چہرۂ انور اور حسب ونسب سے خوب اچھی طرح واقف تھے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: ’’یہ میرا نبی اور میرا چنا ہوا (خاص بندہ ) ہے، لہٰذا ان کے طریقے کو اختیار کرو۔‘‘ (حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:) سنو! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! صبح یا شام کسی بھی وقت ان کے پاس کھانے کے بڑے بڑے پیالے نہیں لائے جاتے تھے۔ (کسی کے لئے) ان کے دروازے بند نہیں کئے جاتے تھے۔ ان کے دروازے پر کوئی دربان نہیں ہوتا تھا۔ یہ بغیر بستر کے زمین پر تشریف فرما ہوتے تھے اور زمین پر ہی ان کے سامنے کھانا پیش کردیا جاتا تھا۔ موٹالباس زیب تن فرماتے تھے۔ درازگوش پر سواری فرماتے، دوسروں کو بھی پیچھے بٹھالیا کرتے تھے اور کھانا تناول فرمانے کے بعد انگلیاں چاٹ لیا کرتے تھے۔
نیز حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرمایا کرتے تھے کہ حضور نبی ٔ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتوں سے اعراض کرنے والوں اور سنتوں کو ترک کرنے والوں کی تعداد میں (دن بدن) اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ پھر یہ جنگلی گدھے (یعنی سنتوں سے اعراض کرنے والے) فساد انگیزی، سود خوری اور دھوکا بازی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں دیگر امور میں مشغول کر کے ذلیل و رسوا کر دیااور وہ اس گمان میں ہیں کہ جو کچھ وہ کھاتے، پیتے، گھروں کی زیب و زینت اور سجاوٹ کرتے ہیں اس میں ان پر کوئی گناہ نہیں اور کہتے ہیں کہ کس نے حرام کی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لئے نکالی اور پاک رزق اور اس سے وہ (حکم) مراد لیتے ہیں جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے مراد نہیں لیا۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے تو یہ چیزیں شیطان کے متعلقین کے لئے بنائی ہیں۔ زینت اسے کہتے ہیں جو بدن پر ظاہر ہو اور طیبات وہ ہیں جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے پیٹ کے لئے پیدا کی ہیں۔ چنانچہ کوئی نعمتوں کا ارادہ اس لئے کرتا ہے تاکہ انہیں اپنے پیٹ، شرمگاہ اور جسم کے لئے لہو ولعب کا ذریعہ بنائے، لہٰذا اگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ چاہتا تو جو چیزیں بندوں کو دی ہیں عطا فرمانے کے بعد ان کے لئے مباح کر دیتا لیکن اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کے متصل وہ حکم نازل فرمایا