Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
240 - 603
مزن ہے حتی کہ آخرت تک پہنچ جائے گا پھر جنت ٹھکانا ہوگا یا جہنم۔ لہٰذا تجھ سے زیادہ خطرہ اور کس کو ہوسکتا ہے۔‘‘ (۱)
نصیحت:
(1825)…حضرتِ سیِّدُنا ابوموسیٰ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی: ’’میں سند (ایک علاقے کا نام ہے) جانے کاارادہ رکھتا ہوں مجھے کچھ نصیحت فرمائیے!‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’جہاں بھی رہو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو معزز ہی جانو وہ تمہیں عزت عطا فرمائے گا۔‘‘ اس شخص کا بیان ہے: ’’میں نے ان کی نصیحت کو اچھی طرح یاد کر لیا۔ چنانچہ ، واپس لوٹنے تک مجھ سے زیادہ عزت والا کوئی نہیں تھا۔‘‘  (۲)
دل مردہ ہوجاتا ہے:
(1826)…حضرتِ سیِّدُنا سالم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم سے مروی ہے کہ حضر ت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’مومن کا (زیادہ) ہنسنا دل کی غفلت کی وجہ سے ہوتا ہے۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا حمید عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد سے روایت کیا گیا ہے کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے۔‘‘  (۳)
(1827)…حضرتِ سیِّدُنا ابوموسیٰ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کو فرماتے سنا کہ اسلام، اسلام کیا ہے ؟ پوشیدہ وظاہر دونوں اس میں مشتبہ ہیں۔ (اسلام یہ ہے کہ) تو محض رضائے الٰہی کے لئے اسلام قبول کرے اور ہر مسلمان ومعاہد (۴) تجھ سے محفوظ رہے۔‘‘  (۵)
دخول جنت کا سبب:
(1828)…حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن مختار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہد الکبیر للبیھقی، الجزء الثانی، الحدیث:۵۱۲، ص۲۰۴، باختصار۔
2…تہذیب الکمال، الرقم:۱۲۱۶، باب الحاء،الحسن بن ابی الحسن، ج۶، ص۱۱۹-۱۲۰۔
3…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الادب، ما ذکر فی الضحک وکثرتہ، الحدیث:۱، ج۶، ص۲۶۱۔
4…عہد و پیمان والے کافرجن سے ہماری صلح ہو۔ (ماخوذازمراٰۃ المناجیح، ج۵، ص۲۱۷)
5…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزہد، باب ماقالوا فی البکاء من خشیۃ اللّٰہ، الحدیث:۶۰، ج۸، ص۳۰۴۔