Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
239 - 603
قائم نہیں ہوسکتا۔‘‘  (۱)
(1822)…حضرتِ سیِّدُنا ابوسفیان طریف عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ اللَّطِیْف سے مروی ہے کہ حضر ت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی یہ دوشعر اکثر پڑھا کرتے تھے۔ ایک دن کی ابتدا میں اور دوسرا دن کے اختتام پر:
یَسُرُّ الْفَتٰی مَاکَانَ قَدِمَ مَنْ تَقٰی             اِذَا عَرَفَ الدَّائَ  الَّذِّیْ ھُوَقَاتِلُہٗ
وَمَاالدُّنْیَابِبَاقِیَۃٍلِحَیٍ                     وَلَاحَیٌعَلَی الدُّنْیَابِبَاقٍ
	ترجمہ: نوجوان کو (وہ دوائی) جس سے اسے قوت حاصل ہو خوش کرتی ہے بالخصوص اس وقت جب وہ ایسی بیماری کو جان لے جو اسے قتل کرنے والی ہو، نہ تو دنیا کسی کے لئے باقی رہی اور نہ ہی کوئی دنیا میں باقی رہے گا۔  (۲)
(1823)…حضرتِ سیِّدُنا ولید مِسْمَعِی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضر ت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کو فرماتے سنا: ’’اے ابن آدم! چھری تیز کرلی گئی ہے۔ مینڈھے کو چارہ کھلایا جاچکا ہے اور تنور میں آگ بھڑکائی جا چکی ہے(پھر بھی تو غافل ہے)۔‘‘  (۳)
ذلت و رسوائی کا باعث:
(1824)…(الف) حضرتِ سیِّدُنا ہشام رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کو فرماتے سناکہ ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! جو شخص بھی درہم (یعنی مال ودولت) کو با عث عزت خیال کرتا ہے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسے ذلیل و رسوا کر دیتا ہے۔‘‘  (۴)
 دو سواریاں:
(1824)…(ب) حضرتِ سیِّدُنا غالب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’اے ابن آدم! تو دو ایسی سواریوں پر سوار ہے جو کسی جگہ نہیں ٹھہرتیں یعنی تو دن اور رات کی پر خطرراہ پر گا 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تہذیب الکمال، الرقم:۱۲۱۶، باب الحاء، الحسن بن ابی الحسن،ج۶، ص۱۲۰۔
2…الزہد الکبیر للبیھقی، الجزء الثالث، الحدیث:۶۱۴، ص۲۳۳۔
3…الزہدللامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۵۳۷، اخبارالحسن بن ابی الحسن، ص۲۸۰، بتغیر۔
4…الزہدللامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۵۳۶، اخبارالحسن بن ابی الحسن، ص۲۸۰۔