عبادت گزار بندوں کی صفات:
(1820)…حضرتِ سیِّدُنا عبدالحمید بن کردید زیادی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’بے شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے کچھ عبادت گزار بندے ایسے ہیں گویا انہوں نے ہمیشہ جنت میں رہنے والوں اور ہمیشہ جہنم میں رہنے والوں کو دیکھ لیاہے۔ ان کے دل غم زدہ اور وہ شر سے محفوظ ہیں۔ ان کی (دنیاوی) ضروریات کم اور یہ پاکیزہ نفوس کے مالک ہوتے ہیں۔ یہ (آخرت میں) دائمی راحت وسکون کے حصول کی خاطر دنیا کے چند روزہ حوادث پر صبر کرتے ہیں۔ ان کی رات اس حالت میں گزرتی ہے کہ قدم صف بستہ ہوتے (یعنی رات عبادت میں گزرتی) اور آنسو رخساروں پر بہہ رہے ہوتے ہیں اور رَبَّنَا ، رَبَّنَا (یعنی اے ہمارے رب! اے ہمارے رب!) کہہ کر پناہ طلب کررہے ہوتے ہیں۔ دن کے وقت ان کا شمار متحمل مزاج، نیک سیرت اور متقی علما میں ہوتا ہے۔جب کسی معاملے میں غور و خوض کرتے ہیں تو اس قدر منہمک ہوتے ہیں کہ دیکھنے والا انہیں مریض یا گم سم خیال کرتا ہے حالانکہ وہ مریض یاگم سم نہیں ہوتے بلکہ آخرت کے عظیم معاملے کی فکر میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ان کی یہ حالت ہوتی ہے۔‘‘ (۱)
تقویٰ ہو تو ایسا:
{1821}…حضرتِ سیِّدُنا حمید طویل عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَکِیْل بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے میرے ذریعے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کو اپنی ایک عزیزہ سے نکاح کا پیغام بھیجا۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے رضا مندی کا اظہار فرمایا۔ ایک دن میں نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کی خدمت میں حاضر ہوکر ان کے سسرال والوں کی تعریف کر تے ہوئے کہا: ’’اے ابو سعید! آپ کے سسر50ہزار درہم کے مالک بھی ہیں۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’کیا انہوں نے یہ مال حلال ذرائع سے جمع کیا ہے؟‘‘ میں نے عرض کی: ’’آپ تو جانتے ہیںکہ آپ کے سسر متقی وپرہیزگار انسان ہیں۔‘‘ فرمایا: ’’اگر انہوں نے یہ 50ہزار درہم حلال ذرائع سے جمع کئے ہیں تو پھر بھی ان کے حق کے معاملے میںکنجوسی سے کام لیا ہے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میرے اور ان کے درمیان سسرالی رشتہ کبھی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۴۹۵۳، علی بن ابی طالب، ج۴۲، ص۴۹۳، عن علی رضی اللّٰہ عنہ۔
موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا، کتاب الہم والحزن، الحدیث:۹۱، ج۳، ص۲۷۸۔