سکون کا باعث بنیں مگر آخرت میں خوف کا سبب ہوں۔‘‘ کسی نے حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے عرض کی: ’’ہمیں صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی صفات بتائیے! آپ نے روتے ہوئے فرمایا: ’’ان سے بہت سی علامات خیر ظاہر ہوتی تھیںخاص طورپرہدایت،سچائی ،کفایت شعاری اپناتے ہوئے کھردرالباس زیب تن کرنا، عاجزی وانکساری سے چلناپھرنا، قول وفعل میں مطابقت ہونا، رزق حلال ہی کھانا پینا، خشوع وخضوع سے اطاعت ِ الٰہی بجالانا، رضائے الٰہی کی خاطر ہی محبت ونفرت کرنا، اسی کی خاطر کسی کو کچھ عطاکرنا، سخت گرمی میں بھی روزہ رکھنا، کثرتِ عبادت کی وجہ جسموں کاکمزور ہوجانا، ہمیشہ خالق ومالک عَزَّوَجَلَّ ہی کی رضاکے متلاشی رہنا اگرچہ مخلوق ناراض ہو، غیظ وغضب کی حالت میں بھی ظلم وزیادتی میں حد سے تجاوز نہ کرنا، احکاماتِ الٰہی سے منحرف نہ ہونا، زبان کو ہروقت ذکرالٰہی سے تر رکھنا، ضرورت پڑنے پر جانوں کا نذرانہ پیش کرنا، قرض مانگنے پر خوش دلی سے مال پیش کرنا، مخلوق کے خوف سے حق بیان کرنے سے نہ رُکنا۔ نیز ان کے اخلاق اچھے، اخراجات قلیل اورآخرت کے معاملے میں دنیا کا قلیل مال ہی ان کے لئے کافی ووافی تھا۔‘‘ (۱)
رحمت ِ الٰہی سے دوری کاسبب:
(1819)…حضرتِ سیِّدُنا فضیل بن جعفر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیںکہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے عمر بن ہُبَیرہ کے دربار سے واپس آتے ہوئے کچھ قراء حضرات کو اس کے دروازے پر کھڑے دیکھا تو فرمایا: تم یہاں کیوں کھڑے ہو؟ کیا ان گھٹیا (دنیادار) لوگوں کے پاس جانے کاارادہ رکھتے ہو؟ سنو! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! ان کے پاس بیٹھنا نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھنانہیں ہے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تمہاری روحوں اور جسموں کے درمیان جدائی ڈالے یہاں سے چلے جاؤ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں رسوا کرے تم جوتے چمکاکر، متکبرانہ لباس پہن کر، بال کٹواکر قراء کو رسوا کرنے آئے ہو۔ سنو! بخدا! اگرتم امرا کے مال ودولت سے کنارہ کشی اختیار کروگے تو یہ تمہارے پاس موجود چیز (دین) میں رغبت رکھیں گے لیکن اگر تم نے ان کے مال ودولت میں دلچسپی لی تو یہ تمہارے پاس موجود چیز (دین) سے کنارہ کش ہوجائیں گے اور جو دین سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسے (اپنی رحمت سے) دور کردیتا ہے۔ (۲)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تہذیب الکمال، الرقم:۱۲۱۶، باب الحائ، الحسن بن ابی الحسن، ج۶، ص۱۱۴-۱۱۳۔
2…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۵۲۹۱، عمر بن ہبیرۃ، ج۴۵، ص۳۷۷۔