Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
236 - 603
 گا۔ اے عمر بن ہُبَیرہ! اس بات سے امن میں نہ رہنا کہ یزیدبن عبدالملک کی اطاعت میں تو جن قباحتوں کا ارتکاب کرے گا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تجھے ان پر (توبہ کی) مہلت عطا فرما دے گاہوسکتاہے کہ ان کی وجہ سے تجھ پرتوبہ کادروازہ ہی بند کردیا جائے۔ اے عمربن ہُبَیرہ! میں نے اس امت میں ایسے لوگوں کودیکھاہے کہ دنیاان کی طرف متوجہ ہوئی لیکن انہوں نے دنیاسے راہِ فرار اختیار کی جبکہ تمہارا معاملہ اس کے برعکس ہے کہ تم دنیاکی طرف متوجہ ہوتے ہو اور دنیا تم سے بھاگتی ہے۔ اے عمربن ہُبَیرہ! میں تمہیں اس مقام سے ڈراتا ہوں جس سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ڈرایا ہے۔ چنانچہ، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ذٰلِکَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیۡ وَخَافَ وَعِیۡدِ ﴿۱۴﴾  (پ۱۳، ابراہیم:۱۴)
ترجمۂ کنزالایمان: یہ اس کے لئے ہے جو میرے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اور میں نے جو عذاب کا حکم سنا یا ہے اس سے خوف کرے۔
	اے عمر بن ہُبَیرہ! اگرتواللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت کر کے حفاظت ِ الٰہی کی چادرمیں آگیاتواللّٰہ عَزَّوَجَلَّ یزیدبن عبدالملک کی شرارتوں سے تجھے محفوظ رکھے گا لیکن اگرتونے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی میںیزیدبن عبدالملک کی فرمانبرداری کی تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تجھے اسی کے سپردکردے گا۔‘‘ یہ گفتگوسن کر عمر بن ہُبَیرہ روتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔ اگلے روزاس نے دونوں کوواپس جانے کی اجازت دی اورتحائف وغیرہ بھی دیئے۔ حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کو حضرت سیِّدُناامام شعبی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی کی بنسبت زیادہ انعامات دیئے۔ حضرت سیِّدُنا امام شعبی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی مسجد تشریف لے گئے اورفرمایا: ’’اے لوگو! جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو مخلوق پر ترجیح دینے کی طاقت رکھتا ہو وہ ایسا ہی کرے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی جو کچھ جانتے ہیں وہ میں بھی جانتاہوں لیکن میں نے عمر بن ہُبَیرہ کاچہرہ دیکھ کر نرم رویہ اختیار کیا تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے عمر بن ہُبَیرہ سے دور کردیا۔‘‘
	راوی کا بیان ہے کہ ایک دن مغیرہ بن مخادش نے حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے پاس آکر کہا: ’’ہم ایسے لوگوں کے ساتھ کیسا برتاؤ کریں جوہمیں (عذابِ آخرت سے) اس قدرڈراتے ہیں قریب ہے کہ ہمارے دل پھٹ جائیں؟‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! جو دنیامیں خوف زدہ کریں لیکن آخرت میں حقیقی سکون کا باعث ہوں ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرنا ان لوگوں کی صحبت اختیار کرنے سے بہتر ہے جودنیا میں