Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
235 - 603
سنائی دے اور لوگ انہیں پاؤں تلے روند ڈالیں تو پھر بھی گناہوں کی رسوائی ان کے دلوں میں سرایت کر کے رہے گی اور جو بندہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کرتا ہے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسے ذلیل ورسوا کردیتا ہے۔‘‘  (۱)
(1817)…حضرتِ سیِّدُنا مبارک بن فضالہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کو فرماتے سنا کہ ’’موت نے دنیا کو رسوا کر دیا اور دنیا میں کسی عقل مند کے لئے کوئی خوشی نہیں چھوڑی۔‘‘  (۲)
عمر بن ہُبَیْرہ کو نصیحت:
(1818)…حضرتِ سیِّدُنا علقمہ بن مرثد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ عراق کے گورنر عمر بن ہُبَیرہ نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری اور حضرت سیِّدُناامام شعبی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کو بلواکر ایک مکان میں ٹھہرایا، دونوں تقریباً ایک ماہ وہاں رہے۔ ایک دن غلام نے آکر کہا: ’’امیر تم سے ملنے آرہے ہیں۔‘‘ عمر بن ہُبَیرہ عصا کا سہارا لئے ہوئے آیا، سلام کیا، تعظیم بجالاتے ہوئے بیٹھ کرکہنے لگا: ’’خلیفہ یزید بن عبدالملک کچھ احکام نافذ کرنا چاہتا ہے، مجھے معلوم ہے کہ ان کا نفاد موجب ِ ہلاکت ہے۔ اگر میں خلیفہ کی اطاعت میں ان احکام کو نافذ کردوں تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کا مرتکب ٹھہروں گا اوراگر اطاعت ِ الٰہی بجالاؤں تو خلیفہ کی نافرمانی ہوگی، اس بارے میںآپ کی کیا رائے ہے؟ کیا خلیفہ کی اطاعت میں میرے لئے کوئی گنجائش ہے؟‘‘ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے حضرتِ سیِّدُنا ابو عمروشعبی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی سے فرمایا: ’’امیر کو جواب دو۔‘‘ چنانچہ، انہوں نے گفتگو کی اور عمربن ہُبَیرہ کے حق میں قدرے نرمی کا پہلونکالا۔ پھر امیر نے حضرت سیِّدُنا ابوسعید حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے کہا: ’’آپ کیا فرماتے ہیں؟‘‘ فرمایا: ’’امام شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے جو فرمایا تم نے سن لیاہے نا۔‘‘ اس نے کہا: ’’میں آپ کی رائے دریافت کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’اے عمربن ہُبَیرہ! میں یہ کہتاہوں کہ عنقریب اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ایک سخت مزاج فرشتہ (یعنی ملک الموت )جو حکم الٰہی کی ذرہ برابر نافرمانی نہیں کرتا تیرے پاس آئے گا اور تجھے تیرے وسیع محل سے تنگ قبر کی طرف لے جائے گا۔ اے عمر بن ہُبَیرہ! اگرتو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرے گا تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تجھے یزیدبن عبدالملک (کے ظلم) سے بچالے گا لیکن یزید بن عبدالملک تجھے عذاب الٰہی سے نہیں بچاسکے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کتاب الافعال، باب الثنائی المکرر، ج۱، ص۳۷۶۔
2…الزہدللامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۴۴۸، اخبارالحسن بن ابی الحسن، ص۲۶۹۔