Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
234 - 603
سب سے بڑا فاسق:
(1813)…حضرتِ سیِّدُنا مبارک بن فضالہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کو فرماتے سناکہ ’’سب سے بڑافاسق وہ ہے جو ہرگناہ کا مرتکب اور فخروغرور میں مبتلا ہو اور یہ کہتا پھرے کہ مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ اسے جان لینا چاہئے کہ کبھی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ دنیاہی میں جلد (گناہوں کی) سزا دے دیتا ہے اور کبھی قیامت تک مؤخر فرمادیتا ہے۔‘‘  (۱)
خلیفہ کونصیحت:
(1814)…حضرتِ سیِّدُنا موہب بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْعَزِیْز خلیفہ بنے تو حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے ان کی طرف خط لکھا جس کا مضمون کچھ اس طرح تھا: ’’(جان لو!) دنیا خوف کا گھر ہے اور انسان کو آزمایش کے لئے دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ اچھی طرح جان لو! دنیا کو پچھاڑنا حقیقی بہادری نہیں ہے۔ جو دنیا کی عزت کرتاہے یہ اسے رسوا کردیتی ہے۔ ہرلمحہ دنیاکاکوئی نہ کوئی مقتول ضرور ہوتا ہے۔ اے امیر المؤمنین! آپ دنیا میں اس زخمی مریض کی طرح رہیں جو زخم کے اچھا ہونے کی امید پر دوا کی کڑواہٹ برداشت کرتا ہے تاکہ بیماری میں اضافہ نہ ہو۔‘‘وَالسَّلَام۔  (۲)
(1815)…حضرتِ سیِّدُنا ہشام رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس شخص پر رحم فرمائے! جو پرانا لباس پہنے، خشک روٹی کا ٹکڑا کھائے، بغیر بستر کے زمین پر سوئے، اپنے گناہوں پر آنسوبہائے اورہر وقت عبادت میں مصروف رہے۔‘‘  (۳)
نافرمانی رسوائی کا باعث ہے:
(1816)…حضرتِ سیِّدُنا حوشب بن مسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کو فرماتے سناکہ ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اگر لوگوں کو تیزرفتار، تابعدار ،عمدہ گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الدرالمنثور، پ۴، سورۃ آل عمرٰن، تحت الآیۃ:۱۵۲، ج۲، ص۳۴۹۔
2…موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا، کتاب ذمّ الدنیا، الحدیث:۲۹۳، ج۵، ص۱۳۸، بتغیر قلیل۔
3…موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا، کتاب قصر الامل، الحدیث:۱۷۶، ج۳، ص۳۴۳۔