ان کا پڑوسی اور شریک مجلس ہوں۔ (سنیئے!) ان کا ظاہر وبا طن یکساں اور قول وعمل میں مطابقت ہے۔ یہ جس کام کی ذمہ داری لیتے ہیں اسے پایائے تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔ لوگوں کو کسی بات کا حکم دیتے ہیں تو خود اس پر زیادہ عمل پیرا ہوتے ہیں اور کسی بات سے منع کرتے ہیں تو خود اس سے زیادہ اجتناب کرتے ہیں۔ یہ لوگوں سے بے پروا جبکہ لوگ ان کے محتاج ہیں۔‘‘ یہ سن کر امیر مسلمہ بن عبدالملک نے کہا: ’’اے خالد! بس اتنا کافی ہے۔‘‘ پھر کہا: ’’جس قوم میں ان جیسے لوگ موجود ہوں وہ کیسے گمراہ ہوسکتی ہے۔‘‘ (۱)
سب سے بڑاظلم:
(1811)…حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن عمرو حضرمی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ہمارے علاقے میں تشریف لائے میں حضرتِ سیِّدُنا عطا ء رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ہمراہ ان کے پاس جابیٹھا۔ میں نے انہیں فرماتے سنا کہ ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتاہے: اے ابن آدم! تیرا خالق میں ہوں جبکہ توعبادت کسی اور کی کرتا ہے۔ میں تجھے یاد رکھتا ہوں جبکہ تو مجھے بھول جاتا ہے۔ میں تجھے (اپنی رحمت کی طرف) بلاتا ہوں جبکہ تودور بھاگتا ہے بے شک یہ زمین میں بہت بڑا ظلم ہے۔ پھر حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے یہ آیت ِ مباکہ تلاوت فرمائی: یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِکْ بِاللہِ ؕؔ اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۳﴾ (پ۲۱، لقمان:۱۳)
ترجمۂ کنزالایمان: اے میرے بیٹے اللّٰہ کا کسی کو شریک نہ کرنا بے شک شرک بڑا ظلم ہے۔ (۲)
نعمتوں میں اضافے کی دعا:
(1812)…حضرتِ سیِّدُنا ابوعبید رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’جو شخص خود پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمتیں دیکھ کر یہ دعاپڑھے: اَ لْحَمْدُلِلّٰہ الَّذِیْ بِنِعْمَتِہِ تَتِمَّ الصَّالِحَاتیعنی تمام تعریفیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس کی عطاکردہ نعمت سے نیک اعمال پایائے تکمیل تک پہنچتے ہیں۔ تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسے غنی کردیتا اور مزید نعمتیں عطا فرماتا ہے۔‘‘
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سیر اعلام النبلاء، الرقم:۵۹۰، الحسن البصری، ج۵، ص۴۶۵۔
2…الدرالمنثور، پ۲۱، سورۃ لقمان، تحت الآیۃ:۱۳، ج۶، ص۵۲۰۔