الْقَوِی کو دیکھ لیتا تو کہتا کہ میں کبھی کسی فقیہ کی صحبت میں نہیں بیٹھا۔‘‘ (۱)
نسبت سرکار کا شرف:
(1808)…حضرتِ سیِّدُنا عوف بن ابی جمیلہ اعرابی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی زوجۂ رسول ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا ام سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی باندی (خادمہ) کے بیٹے تھے۔ ایک بار آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اپنی باندی کوکسی کام کے لئے بھیجا اس کی غیرموجودگی میں حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی رونے لگے تو ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا ام سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو ان پربڑا رحم آیا، انہیں گود میں لیا اور دودھ پلایا۔ اسی وجہ سے کہا جاتا تھا کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کو علم وحکمت میں یہ مقام ومرتبہ زوجۂ رسول ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا ام سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا دودھ پینے کی برکت سے حاصل ہوا ہے۔ (۲)
(1809)…حضرتِ سیِّدُنا امام اعمش رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیںکہ حضر ت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی خوب جدوجہد سے علم وحکمت سیکھتے رہے حتی کہ حکمت بھری گفتگو کرنے پر قادر ہوگئے۔ حضرتِ سیِّدُنا ابوجعفر محمد بن علی بن حسین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی کے سامنے جب حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کا تذکرہ کیاجاتاتو فرماتے: ’’یہ وہ ہیں جن کا کلام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے کلام کے مشابہ ہے۔‘‘ (۳)
سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ الرَّحْمَہکی فضیلت:
(1810)…حضرتِ سیِّدُنا خالد بن صفوان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں کہ ایک بار حیرہ کے مقام پر امیر مسلمہ بن عبدالملک سے میری ملاقات ہوئی توانہوں نے مجھ سے پوچھا: ’’اے خالد! مجھے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے بارے میں بتاؤ۔‘‘ میں نے کہا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ امیر کی اصلاح فرمائے! میں آپ کو ان کے بارے میں یقینی خبر دوں گا اور مجھ سے پہلے جنہوں نے آپ کو ان کے بارے میں بتایا میں ان سے زیادہ معلومات رکھتا ہوں کیونکہ میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سیر اعلام النبلائ، الرقم:۵۹۰، الحسن البصری، ج۵، ص۴۷۱۔
2…الطبقات الکبری، الرقم:۳۰۵۵، الحسن بن ابی الحسن، ج۷، ص۱۱۴، بتغیر۔
تہذیب الکمال، الرقم:۱۲۱۶، باب الحائ، الحسن بن ابی الحسن، ج۶، ص۱۱۸۔
3…سیر اعلام النبلائ، الرقم:۵۹۰، الحسن البصری، ج۵، ص۴۷۱۔