الْقَوِی نے فرمایا: اے ابن آدم! تو ہرچیز کو ہڑپ کرگیا، خوب مال جمع کیا، بخل وکنجوسی کا مظاہرہ کیا، عمدہ سواریوں پر سوار ہوا اور نرم وملائم لباس زیب تن کیا، پھر کہا گیا فلاں کا انتقال ہوگیا۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! وہ آخرت کی طرف پہنچ گیا۔ بخدا! مومن رضائے الٰہی کے لئے کچھ دن عمل کرتا ہے تو (آخرت میں) ملنے والی نعمتوں اور آسانیوں پر اسے کسی قسم کی ندامت نہیں اٹھانی پڑتی کیونکہ دنیا اسے پسند آئی لیکن اس نے اسے حقیر جانا اور زادراہ لے کر آخرت کے حصول کی خاطر اسے نظر انداز کر دیا کیونکہ اس کے نزدیک دنیا مستقل ٹھکانا نہیں۔ وہ دنیاوی نعمتوں میں نہ توکوئی دلچسپی لیتا اور نہ ہی ان سے خوش ہوتا ہے۔ اگر کسی آزمایش میں مبتلاہوتواسے بڑا نہیں سمجھتا کیونکہ وہ اسے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے ہاں باعث اجر وثواب سمجھتا ہے۔ دنیا وی عطیات کی اس کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہوتی حتی کہ (آخرت میں) رغبت رکھتے ہوئے خوشی خوشی دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔ اس انداز زندگی کی وجہ سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسے اپنے خوف سے امن عطا فرماتا، اس کی خامیوں پر پردہ ڈال دیتا اور حساب وکتاب میں آسانی فرماتا ہے۔ گویاعقل مند یہ کہتے ہیں کہ: اے ابن آدم! صبح وشام کے جانے اور استقامت کے ساتھ رات بھر کی عبادت نے بندے کو نیکی کا موقع دیا اور اس پر قائم رکھا حتی کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے جنت عطا فرمادی تو وہ فلاح پاگیا۔ بے شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نہ توکسی حق دار کو جنت سے محروم رکھتا ہے اور نہ ہی امیدوں اور خواہشات پر کسی کو جنت عطافرماتا ہے جبکہ اب حالت یہ ہے کہ بخل وحرص میں شدت آتی جارہی ہے۔ خواہشات کا دوردورہ ہے اور خواہشات کا متوالا دھوکے کاشکارہے۔ (۱)
فقیہ کی صفات:
(1806)…حضرتِ سیِّدُنا عمران قصیر عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَدِیْر بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے ایک چیز کے متعلق سوال کیا اور کہا کہ فقہا اس کے متعلق یہ فرماتے ہیں تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فر مایا: ’’کیا تونے کسی فقیہ کودیکھاہے؟ فقیہ تو وہ ہوتا ہے جو زہدوتقویٰ کا پیکر، دینی معاملات میں کامل بصیرت رکھنے والا اور عبادت کا پابند ہو۔‘‘ (۲)
(1807)…حضرتِ سیِّدُنا ایوب عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَدُوْد کا قول ہے کہ ’’اگر کوئی حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا، قصر الامل، الحدیث:۱۷۲، ج۳، ص۳۴۲، باختصار۔
2…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزہد، کلام الحسن البصری، الحدیث:۲، ج۸، ص۲۵۴۔