Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
230 - 603
	اے ابن آدم! تجھے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں کھڑا کیا جائے گا اور تو اپنے عمل کے بدلہ میں گروی رکھا گیا ہوگا، لہٰذا جو کچھ تیرے پاس ہے اس میں سے آنے والے دنوں کے لئے کچھ لے لے۔ موت کے وقت تیرے پاس خبر آئے گی، تجھ سے سوال کیا جائے گا لیکن تو کوئی جواب نہ دے پائے گا۔ بے شک بندہ اس وقت تک بھلائی پر قائم رہتا ہے جب تک اپنے نفس کو نصیحت کرتا رہے اور نفس کا محاسبہ ہی سب سے اہم کام ہے۔  (۱)
مال واسباب سے بے رغبتی:
(1804)…حضرتِ سیِّدُناہشام رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کو فرماتے سناکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں نے ایسے لوگوں کا زمانہ پایا ہے جن کے گھروں میں کبھی کوئی کپڑا طے کرکے نہیں رکھا گیا، نہ انہوں نے کبھی اپنے گھروالوں کو کھانا تیار کرنے کا حکم دیا اور نہ ہی زمین پر کوئی بستربچھایا۔ ان میں سے کوئی کہتا: ’’میں یہ پسندکرتا ہوں کہ اپنے پیٹ میں کھانے کی بجائے پکی اینٹ ڈال لوں (تاکہ پھر کچھ کھانے کی حاجت نہ ہو)۔‘‘ راوی کابیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے ہمیں بتایا کہ پکی اینٹ پانی میں 300سال تک باقی رہتی ہے۔ (پھر فرمایا:) میں نے ایسے لوگوں کازمانہ بھی پایا ہے جن میںسے کوئی اگر کثیر مال و دولت کا وارث بنتا تو کہتا: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! یہ توبہت مشقت والی چیز ہے۔ پھر اپنے مسلمان بھائی سے کہتا: ’’اے میرے بھائی! میں جانتا ہوں کہ مال میراث میرے لئے حلال ہے لیکن مجھے ڈرہے کہ کہیں یہ میرے دل اور عمل میں بگاڑ پیدا نہ کر دے، لہٰذا اسے تم لے لومجھے اس کی کچھ حاجت نہیں۔‘‘ چنانچہ، سارا مال اسے دے دیتا اور اپنے لئے کچھ بھی نہ رکھتا حالانکہ وہ اس کا سخت ضرورت مند ہوتا۔  (۲)
مومن کا اندازِزندگی:
(1805)…حضرتِ سیِّدُنا ابوعبیدہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیںکہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہدلابن مبارک، باب فضل ذکر اللّٰہ، الحدیث:۱۱۰۳، ص۳۸۹۔
	التبصرۃ لابن جوزی، المجلس الخامس والعشرون، ج۱، ص۳۵۹۔
	الزہدللامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۶۲۷، اخبارالحسن بن ابی الحسن، ص۲۹۰۔
2…الزہدللامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۴۵۹-۱۴۵۶، اخبارالحسن بن ابی الحسن، ص۲۷۰۔