Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
229 - 603
 آئے گا جو خوب مال جمع کرنے والا اور بخیل ہوگا، مال ودولت جمع کرنے کے لئے دن رات جنگل وبیابان کا سفر طے کرے گالیکن مال جمع کرنے کی حرص پھربھی ختم نہ ہوگی، اسے روکے رکھنااپناحق سمجھے گا، اسے جمع کرکے سنبھال سنبھال کررکھے گااوربخل سے کام لے گاکہ نہ توزکوٰۃادا کرے گا نہ صلہ رحمی کرے گا بروزِ قیامت ایسا شخص حسرتوں کا شکار ہوگا اور اس دن بندے کی سب سے بڑی حسرت یہ ہوگی کہ وہ اپنامال کسی دوسرے کے میزان میں دیکھے کیا تم جانتے ہویہ کیسے ہوگا؟ یوں کہ ایک شخص کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے مال عطا فرمایا اور حُقوقُ اللّٰہ کی مختلف اقسام میں خرچ کرنے کا حکم دیا لیکن اس نے بخل سے کام لیا مرنے کے بعد اس کا وارث مال کا مالک بن جاتا ہے اس طرح وہ اپنا مال دوسرے کے میزان میں دیکھتاہے۔ اے دنیادار! (اب افسوس کرنے کا کچھ فائدہ نہیں) یہ ایسی لغزش اور ندامت ہے جو گزر چکی ہے۔‘‘  (۱)
سب سے اہم کام:
(1803)…حضرتِ سیِّدُنا ابوعبیدہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضر ت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس شخص پر رحم فرمائے جو صاحب ِ معرفت و صاحب بصیرت ہو عبرت کی نگاہ سے دیکھے اور مصائب پر صبر کرے کیونکہ بہت سے لوگ صاحب ِ معرفت تو ہوتے ہیں لیکن بے صبری کی وجہ سے ان کی بصارت کا چراغ گل ہو جاتا ہے، لہٰذا نہ تووہ مطلوب تک پہنچ پاتے ہیں اورنہ ہی اس کی طرف لوٹ سکتے ہیں جسے حاصل نہ کرسکے۔ چنانچہ، رحمت الٰہی سے دوری کا باعث اور گمراہ کن خواہشات سے بچو کیونکہ ان کی اتباع گمراہی اور انجام جہنم کی آگ ہے۔ ان کے حصول کے لئے لوگوں کوسخت محنت کرنی پڑتی ہے۔ جوان خواہشات کوپالے یہ اسے گمراہ کردیتی اور جسے یہ پالیں اسے قتل کردیتی ہیں۔
	اے ابن آدم! اپنے دین کی خوب حفاظت کر کیونکہ تیرا دین ہی تیراگو شت اورخون ہے۔ اگر تیرا دین سلامت رہے گا تو گوشت اور خون بھی سلامت رہے گا لیکن اگر معاملہ اس کے برعکس ہوا تو پھر ہم (جہنم کی) نہ بجھنے والی آگ، نہ مندمل ہونے والے زخم، نہ ختم ہونے والے عذاب اور کبھی نہ مرنے والے نفس سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی پنا ہ مانگتے ہیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۳۱۹۶، عبداللّٰہ بن اہتم، ج۲۷، ص۱۱۰۔