تک لے جائیں گے۔‘‘ (۱)
چارخصلتیں:
(1801)…حضرتِ سیِّدُنا عوام بن حوشب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کو فرماتے سنا کہ ’’جس میں چار خصلتیں ہوں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسے جہنم کی آگ پر حرام فرمادیتا اور شیطان مردود سے اسے پناہ عطا فرماتا ہے۔ رغبت، خوف، شہوت اور غصہ کے وقت نفس کوقابو میں رکھنا۔‘‘ (۲)
سب سے بڑی حسرت:
(1802)…حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر ہذلی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی بیان کرتے ہیں کہ ایک بار ہم حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک شخص نے آکر کہا: اے ابوسعید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد! (یہ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کی کنیت ہے) ہم ابھی ابھی حضرتِ سیِّدُنا عبیداللّٰہ بن اہتم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم کے پاس گئے تھے وہ نزع کے عالم میں تھے، ہم نے ان سے پوچھا: ’’اے ابومعمر! آپ کیسے ہیں؟‘‘ جواب دیا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! سخت تکلیف میں ہوں اور میرا خیال ہے کہ موت کا فرشتہ میری روح قبض کرنے ہی والا ہے لیکن تم اس صندوق میں پڑے ایک لاکھ درہم کے بارے میں کیا کہتے ہو جن سے حقوق ادا نہیں کئے گئے؟‘‘ ہم نے کہا: ’’اے ابومعمر! آپ نے انہیں کس لئے جمع کیا تھا؟‘‘ فرمایا: ’’بخدا! میں نے انہیں گردش زمانہ، بادشاہ کے ظلم اور خاندان کی کثرت کی وجہ سے جمع کیا تھا۔‘‘ (یہ سن کر) حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’اس مصیبت زدہ شخص کو دیکھو شیطان اس کے پاس اس انداز سے آیا، اسے گردش زمانہ اور اس بادشاہ کے ظلم سے ڈرایا کہ جسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی اور اسے اس کی رعایا میں رکھا۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! یہ دنیا سے شکستہ دل، غمگین اور ذلیل و رسوا حالت میں جا رہا ہے۔ اے اس کے بعد پیچھے رہ جانے والے تو اس کی طرح دھوکے میں نہ رہنا تیرے پاس یہ مال حلال طریقہ سے آیا۔ لہٰذا خوب احتیاط کرنا کہ کہیں یہ تیرے لئے وبال نہ بن جائے۔ بخدا! تیرے پاس ایسا شخص بھی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہدلابن مبارک، باب ذکر الموت، الحدیث:۲۶۸، ص۹۱۔
2…المجالسۃ وجواہر العلم، الجزء الثالث والعشرون، الحدیث:۳۱۵۶، ج۳، ص۱۴۸۔