اس کی دنیا رہتی ہے نہ آخرت۔‘‘ (۱)
دنیادار کی دنیاسے رخصتی:
(1798)…حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن عیسیٰ یشکری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے پاس جب کسی دنیادار کا ذکر کیا جاتا تو فرماتے: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! نہ تودنیا اس کے لئے باقی رہے گی اورنہ ہی یہ دنیاکے لئے باقی رہے گا۔ دنیا کا پیروکار اس کے شراور حساب وکتاب سے بچ نہیں سکتا۔ نیز وہ دنیا سے خوف کی حالت میں رخصت ہوتا ہے۔‘‘ (۲)
مومن ومنافق میں فرق:
(1799)…حضرتِ سیِّدُناہشام رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے اس فرمانِ باری تعالیٰ:
ہَآؤُمُ اقْرَءُوۡا کِتٰبِیَہۡ ﴿ۚ۱۹﴾ اِنِّیۡ ظَنَنۡتُ اَنِّیۡ مُلٰقٍ حِسَابِیَہۡ ﴿ۚ۲۰﴾ (پ۲۹، الحاقۃ:۱۹،۲۰)
ترجمۂ کنزالایمان: لو میرے نامۂ اعمال پڑھو مجھے یقین تھا کہ میں اپنے حساب کو پہنچوں گا۔
کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ’’بے شک مومن اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہے، لہٰذا وہ عمل بھی اچھا ہی کرتا ہے جبکہ منافق اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے متعلق برا گمان رکھتا ہے، اس لئے وہ عمل بھی براہی کرتا ہے۔‘‘ (۳)
اِتباعِ نفس کانقصان:
(1800)…حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ بن عمر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’اے لوگو! دلوں کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر سے جلا (حیات) بخشو کیونکہ یہ جلد کاہلی وسستی کا شکار ہوجاتے ہیں اور نفسوں کو جھنجھوڑا کرو کیونکہ یہ دھوکے باز ہیں اگر تم ان کی پیروی کرتے رہوگے تو یہ تمہیں برائی کی انتہا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہدللامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۴۵۱، اخبارالحسن بن ابی الحسن، ص۲۶۹۔
2…الزہدللامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۴۵۸، اخبارالحسن بن ابی الحسن، ص۲۷۰۔
3…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزہد، کلام الحسن البصری، الحدیث:۵، ج۸، ص۲۵۵۔
تفسیرقرطبی، پ۲۹، سورۃ الحاقۃ، تحت الآیۃ:۱۹۔۲۰، ج۱۸، ص۲۰۰۔