اے ابن آدم! بے شک تو اپنا عمل دیکھ رہا ہے اس کی بھلائی وبرائی کا وزن کیاجائے گا۔ لہٰذاچھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی حقیرنہ سمجھنا کیونکہ جب تواسے اپنے نامہ اعمال میں دیکھے گاتوتجھے خوشی و مسرت ہوگی اور کسی بھی برائی کو حقیر خیال نہ کرنا کیونکہ جب تواسے اپنے نامہ اعمال میں دیکھے گا توتیرے لئے پریشانی کاباعث ہوگا۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس شخص پر رحم فرمائے جس نے حلال ذرائع سے مال کمایا اورفقر و فاقہ کے دن (یعنی قیامت میں) ذخیرہ کرنے کے لئے اسے رضائے الٰہی کے کاموں میں خرچ کیا۔ ہائے افسوس! ہائے افسوس! دنیا انجام تک پہنچنے والی ہے اعمال تمہارے گلے کا ہار بن کر رہ جائیں گے۔ تم لوگو ں کو ہانک رہے ہوجبکہ قیامت تمہیں ہانک رہی ہے۔ تمہارے نیک لوگو ں نے جلدبازی کا مظاہرہ کیا تم کس چیز کے انتظار میں ہو؟ آنکھوں سے دیکھنا تو ثابت ہوچکا ہے یوں کہ قرآن مجید کے بعد کوئی اور کتاب نہیں اور حضرت سیِّدُنا محمد مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
اے ابن آدم! اپنی دنیا کو آخرت کے عوض بیچ ڈال یوں تو دنیا وآخرت دونوں میں نفع پائے گا جبکہ دنیا کے بدلے آخرت کو ہرگز فروخت نہ کرنا ورنہ دونوں جہاں میں خسارہ اٹھائے گا۔ (۱)
(1796)…حضرتِ سیِّدُنا حمید رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ماہ رجب المرجب میںایک دن ہم مسجد میں حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کی خدمت میں حاضر تھے، آپ کلی کررہے تھے کہ اچانک لمبی لمبی سانس لینے لگے پھر رودیئے حتی کہ جسم پر کپکپی طاری ہوگئی پھر فرمایا: ’’اگر دلوں کو زندگی ملتی اور ان میںقوت برداشت ہوتی تو میں تمہیں قیامت تک رلاتا رہتا۔ بے شک وہ رات جس کے بعد قیامت کا دن طلوع ہوگا، جس (کی ہولناکیوں) کے بارے میں مخلوق نے کبھی نہ سنا ہوگا اس دن بے پردگی بکثرت ہوگی اور آنکھیں خوب روتی ہوں گی۔‘‘ (۲)
نہ دنیا رہتی ہے نہ آخرت:
(1797)…حضرتِ سیِّدُنا ابن مِغْوَل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل بیان کرتے ہیںکہ حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’صبح ہوتے ہی ہرشخص اپنے مقصد میں مصروف ہوجاتا ہے اور جس کا جو مقصد ہوتا ہے وہ اسی کی فکر میں مگن ہوتا ہے۔ جو آخرت سنوارنے کی کوشش نہیں کرتا وہ دنیابھی نہیں سنوار پاتا اور جو دنیاکوآخرت پرترجیح دیتا ہے نہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تہذیب الکمال، الرقم:۱۲۱۶، باب الحائ، الحسن بن ابی الحسن، ج۶، ص۱۱۶۔
2…الزہدللامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۴۴۵، اخبارالحسن بن ابی الحسن، ص۲۶۸-۲۶۹۔