Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
225 - 603
	اے بن آدم! تو ہلاک ہو! جب آخرت کی بھلائی تیرے لئے ظاہر ہو چکی ہے تو تجھے پہنچنے والے دنیاوی مصائب و آلام تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ تمہیں غافل رکھا مال کی زیادہ طلبی نے یہاں تک کہ تم نے قبروں کا منہ دیکھا۔ اسی (یعنی مال ودولت کی حرص) نے لوگوں کو رسوا کردیا۔ مال کی زیادہ طلبی نے تمہیں جنت سے غافل رکھا حالانکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی دعوت اور اس کی کرامت تجھ تک پہنچ چکی تھی۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں نے ایسی قوم کی صحبت اختیار کی ہے جو کہا کرتے تھے کہ ہمیں نہ تو دنیا سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی ہمیں دنیا کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ وہ ہمیشہ صبح و شام اور تمام رات عبادت کر تے اور جنت کے طلبگار رہتے تھے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! جنت کی طلب میںانہوں نے خون تک بہا دیئے، انہوں نے امید رکھی، لہٰذا کامیاب ہوگئے اور نجات پاگئے۔ انہیں مبارک ہو کہ نہ توان میں سے کوئی کپڑا طے کرکے رکھتا تھا اور نہ ہی کو ئی بستر بچھاتا تھا تُو ہمیشہ ان سے اس حال میں ملے گا کہ وہ روزہ دار، عاجز، غمگین اور (نجات کے معاملے میں) خوف زدہ ہوں گے، ان میں سے کوئی جب گھرجاتا اور گھر والے کھانے کے لئے کوئی چیز پیش کردیتے تو کھا لیتے ورنہ خاموش رہتے اور گھروالوں سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کرتے کہ یہ کیاہے اور یہ کیا ہے۔ پھر حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے یہ شعر پڑھا:
لَـیْسَ مَنْ مَاتَ فَاسْتَرَاحَ بِمَیِّتٍ 		اِنَّمَا الْمَیِّتُ مَیِّتُ الْاِحْیَاء
	ترجمہ: جو شخص مرکر راحت وآرام میں ہو وہ مردہ نہیں کیونکہ مردہ تو حقیقت میں زندوں کا مردہ ہونا ہے۔  (۱)
متقین کی پہچان:
(1795)…حضرتِ سیِّدُنا عبدالمؤمن بن عبیداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: اے ابن آدم! کسی عمل پر ہمیشگی اختیار کرنا ہی اصل میں تیرا عمل ہے کیونکہ یہی تیرا گوشت اور خون ہے۔ لہٰذا غور کر کہ توکس طرح عمل بجالاتا ہے کیونکہ اہل تقویٰ کی کچھ علامات ہیں جن سے وہ پہچانے جاتے ہیں ( وہ یہ ہیں:) سچ بولنا، وعدہ پورا کرنا، صلہ رحمی کرنا، کمزوروں کے ساتھ مہربانی وشفقت سے پیش آنا، غرور و تکبر سے بچنا، کثرت سے نیک اعمال بجالانا، خودکوممتازنہ سمجھنا، اچھے اخلاق اختیار کرنا اور ایسی عادات اپنا نا جو قربِ الٰہی کے حصول کاذریعہ ہوں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا، ذم الدنیا، الحدیث:۴۰۴، ج۵، ص۱۷۳-۱۷۲، باختصار۔