Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
224 - 603
 صورت بھی نہ چھوڑناکیونکہ تجھ سے اس کے متعلق پوچھ گچھ ہوگی، لہٰذا عمل میں اخلاص پیدا کر ، صبح وشام موت کا منتظر رہ۔ گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں مگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے۔ لوگو ں میں سے نجات یافتہ وہی شخص ہے جو خوشحالی و تنگی دونوں حالتوں میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم پر عمل کرے اور لوگوں کو اللّٰہ و رسول عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت کا حکم دے۔ تم ایسے مذموم گھر میں ہو جسے بطور آزمایش پیدا کیاگیا ہے اور اس کے اہل کے لئے ایک مدت مقرر کی گئی ہے جب وہ اس مدت تک پہنچیں گے تو خود بخود ہلاک ہوجائیں گے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اس میں نباتات کو پیدا کیا، ہرقسم کے چوپائے پھیلائے پھر لوگوں کو اس چیز سے جس کا وہ ارادہ رکھتے ہیں آگاہ کرتے ہوئے اپنی اطاعت کا حکم دیا اور اطاعت کی راہ ان کے لئے واضح کی، اس پر چلنے کی صورت میں ان سے جنت کا وعدہ فرمایا۔ تما م مخلوق اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ مخلوق میں سے کوئی بھی اسے عاجز نہیں کر سکتا۔ ان کے اعمال میں سے کوئی چیز بھی اس پر مخفی نہیں۔ دنیا میں لوگوں کی کوششیں مختلف ہیں بعض نافرمان ہیں، بعض فرمانبردار۔ بارگاہِ الٰہی سے ہر شخص کو اس کے عمل کے مطابق جزا ملے گی اور پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے بندوں سے جو وعدہ فرمایا اور جو کچھ ان پر اتارا اس میں یہ بیان نہیں فرمایا کہ دنیا کے کس کام میں اس کی رضا ہے اور نہ ہی یہ بیان فرمایا کہ دنیا کی طرف مائل ہونے اور اس سے دل لگانے میں اس کی ناراضی ہے بلکہ اس کی نشانیاں بیان فرمائیں اور دنیا کے عیوب واضح کرنے اور اس سے روکنے کے لئے مثالیں بیان کیں اور آخرت میں رغبت رکھنے کی ترغیب دی اور بندوں کے لئے واضح کردیا کہ جس کے لئے دنیا اور اہل دنیا کو پیدا کیاگیا ہے وہ ایک عظیم الشان مقصد ہے جس کا آغاز ہولناک صورت میں ہوگا۔ منقول ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  ارشادفرماتاہے کہ میں بندے کی ایسے گھر کی طرف راہ نمائی کرتا ہوں کہ نہ تواس کا ثواب کسی ثواب سے مشابہت رکھتا ہے اور نہ ہی اس کی سزا کسی سز ا سے مشابہت رکھتی ہے۔ لیکن ہمیشہ رہنے والا گھر (یعنی جنت) اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بندوں کو ان کے نیک اعمال کی جزا کے طور پر عطا فرمائے گا، وہ ایسا مقام ہے کہ نہ تو وہاں رہائشیوں کی حالت میں کسی قسم کاتغیر واقع ہوگا اور نہ ہی کسی کی نعمت زائل ہوگی ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس بندے پر رحم فرمائے جس کی تمام تر کوشش طلب حلال میں صرف ہوتی ہے حتی کہ جب وہ اسے خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسے اپنی خوشنودی والے کاموں میں خرچ کرنے کی توفیق عطا فرماتا ہے۔