Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
223 - 603
 ہونے والی ہیں۔ دنیاوی مصائب و آلام سے امن نہیں مل سکتا، اس کی نئی چیزیں بوسیدہ ہوجاتی ہیں۔ صحت مند بیمار اور مالدار فقیر ہوجاتا ہے۔ یہ اپنے رہنے والے کو اپنی طرف مائل کرنے والی ہے اور ہر حال میں لوگوں سے کھیلتی ہے۔ دنیا میں ہر اس شخص کے لئے عبرت اور واضح بیان ہے جو عبرت حاصل کرنا چاہے، پھر تم کس چیز کے منتظر ہو۔
	اے ابن آدم! آج تو ایسے گھر میں ہے جو تیرے لئے بہت سخت ہے گویا تیرے سامنے اس کی حقیقت واضح ہو چکی ہے اور یہ جلدی جلدی اختتام کی طر ف بڑھ رہا ہے۔ اپنے اہل کو ایسے سخت امور کی طر ف لے جائے گا جو بہت  خطرناک ہیں۔
	اے ابن آدم! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈر! دنیا میں تیری تمام تر کوشش آخرت سنوارنے کے لئے ہی ہونی چاہیئے کیونکہ دنیا میں تیرے لئے کچھ نہیں سوائے اس چیز کے جوتو آگے بھیج دے، لہٰذا مال و دولت جمع نہ کر، نفس کی پیروی سے باز رہ کیونکہ تو جانتا ہے کہ اسے تو اپنے پیچھے چھوڑ جائے گا۔ ہاں پر مشقت طویل سفر کے لئے زادِراہ تیار کر، زندگی کے ایام اور دنیا میں طویل قیام سے فائدہ اٹھالے اس سے پہلے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کا فیصلہ (موت) تیرے اور تیرے ارادوں کے درمیان حائل ہوجائے اور تجھے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے لیکن اس وقت کی ندامت کچھ فائدہ نہ دے گی۔ دنیا کو چھوڑدے، اپنے نفس کو دنیا سے دور رہنے پر آمادہ کر، دنیاوی فضولیات سے جان چھڑالے کیونکہ اگر تو اس (یعنی دنیا سے دور رہنے) میں کامیاب ہوگیا تو ایسی نعمتوں سے لطف اندوز ہوگا جو کبھی زائل نہ ہوں گی اور ایسے عذاب سے نجات حاصل کرلے گا جس میں مبتلا لوگوں کے لئے نہ تو کوئی راحت ہوگی اور نہ ہی عذاب میں کوئی وقفہ ہوگا، لہٰذا جس مقصد کے لئے تجھے پیدا کیا گیا ہے اس کے حصول کے لئے خوب محنت کراس سے پہلے کہ تیرے اُمور متفرق ہو جائیں اور تیرے لئے انہیں جمع کرنا دشوار ہو جائے۔ دنیا کو صرف جسم کی حدتک رہنے دے اسے دل میں داخل مت ہونے دے تاکہ گزشتہ عمر میں جو کچھ تو دیکھ چکا ہے اس سے تجھے نفع حاصل ہو۔ اہل دنیا اور ان کے ارادوں کے درمیان حائل ہوجا کیونکہ یہ جلد ہی فنا ہو جائے گی، اس کا وبال خوفناک ہے۔ دنیاداروں کے دنیا پر فخر وغرور کی وجہ سے تیرے زہد وتقویٰ اور دنیا سے احتراز کرنے میں اضافہ ہونا چاہئے کیونکہ صالحین کا یہی طریقہ رہا ہے۔
	اے ابن آدم! خوب اچھی طرح جان لے کہ تو ایک ایسے عظیم امر کا طلبگار ہے جس میں محروم وہلاک ہونے والا ہی کوتاہی کرتا ہے۔ تیرا مقصد تیرے سامنے ہے۔ دھوکے کا شکار مت ہونا، تیرا جوحق تجھ پر پیش کیا جائے اسے کسی