اے ابن آدم! دنیا کے مکر وفریب سے دھوکا نہ کھانا۔ جب تک امان حاصل نہ ہوجائے اس وقت تک اس سے بے خوف نہ رہنا کیونکہ عظیم تر ہولناکی اور قبیح امور تیرے سامنے ہیں جن سے ابھی تک تجھے چھٹکارا حاصل نہیں ہوا اور (دنیا کے معاملے میں) چاک وچوبند رہنے کے علاوہ تیرے پاس کوئی چارہ کار نہیں۔ ان اُمور کا پیش آنا یاتو تیرے لئے دنیا کے شر سے عافیت کا باعث ہوگا اور تو اس کی ہولناکیوں سے نجات پاجائے گایا پھر اس ہلاکت کاسامنا کرنا پڑے گا جو بہت سخت، ہیبت ناک ، ڈراؤنی اور دلوں کو دہشت زدہ کرنے والی ہے، لہٰذا اس کے لئے خوب تیاری کر اور جتنا ہوسکے اس کے شرسے دور بھاگ۔ دنیا کا فناہونے والا قلیل سازوسامان تجھے دھوکے میں مبتلا نہ کرے اور تیرا نفس دنیاوی سازوسامان کا منتظرنہ رہے کیونکہ دنیا تیزی سے تیری عمر گھٹا رہی ہے ۔ اپناکام جلد سرانجام دے لے اسے کل پر مت چھوڑ کیونکہ تو نہیں جانتا کہ کب تو موت کا شکار ہوجائے۔
اے لوگو! اچھی طرح جان لو! لوگ دنیاوی زینت کے حصول میں بہت سرگرمی دیکھاتے اور اس کی خاطر ہرقسم کی سختی کا سامنا کرلیتے ہیں۔ ہردنیادار شخص جس حالت میں ہے اسی میں خوش ہوتا اور مزید ترقی کا خواہشمند ہوتاہے۔ جنہوں نے دنیا میں رضائے الٰہی کے کام نہ کئے وہ خسارے میں رہیں گے اور ان کی کوشش رائگاں جائے گی اور جنہوں نے رضائے الٰہی کے کام کئے انہیں ان کا فائدہ ہوگا اور اس طرح (آخرت میںسے) وہ اپنا حصہ پالیں گے۔ ان کے پاس اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی کتاب اور اس کا عہد موجود ہے جس میں ماضی و مستقبل اوربعد میں آنے والوںکی خبریں ہیں۔ آج بھی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کافیصلہ وہی ہے جو پہلے لوگوں کے لئے تھاکیونکہ حجت ِالٰہی پوری ہوچکی ہے اور کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ جو بھی عمل کیا جائے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کی پوری جزا دے گا۔ بندوں کے بارے میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے دوفیصلوں میں سے ایک فیصلہ ہوتا ہے۔ یاتو رحمت وثواب کا فیصلہ ہوتا ہے اس صورت میں نعمت وعزت کا تاج عطا کیا جاتا ہے یا پھر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی وعقوبت کا فیصلہ ہوتا ہے اس صورت میں حسرت وندامت مقدر ہوتی ہے۔ لیکن جس کے پاس اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طر ف سے واضح بیان آگیاہو کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا فیصلہ یہ ہے توپھر جو چیز اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک حقیر ہو بندہ بھی اسے حقارت کی نظر سے دیکھے اور جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک معظم ہو بندہ بھی اسے عزت کی نگاہ سے دیکھے ۔ کیا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے یہ بیان نہیں کیا کہ دنیادار کو موت کے بعد بہت سے ناپسندیدہ اُمور کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دنیا کی عیش وعشرت جو انسان کو بھاتی ہے اس کی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں، دنیا کے زوال کا وقت قریب آچکا ہے۔ اس کی نعمتیں زائل