جائے اس ایک کلمے اور اس دنیا جیسی چار گنا کے درمیان اگر اسے اختیار دیا جائے تو وہ اس ایک کلمے کو اس دنیا پر ترجیح دے گا لہٰذا آج کے دن کو اپنے لئے خالص کرلے، موجودہ ساعت پر نظر رکھ، بات کی اہمیت کو سمجھ اور موت کے وقت کی حسرت سے بچ اور اس بات سے بے خوف نہ ہو کہ تو اس کلام پر گواہ ہوگا (بلکہ یہ کلام تیرے خلاف حجت ہوگا)۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں او رتمہیں اس نصیحت سے نفع عطا فرمائے اور ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے۔ (۱) السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
مریدین کو نصیحت:
(1794)…حضرتِ سیِّدُنا عبیدہ سعید بن زربی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کو اپنے مرید ین کو نصیحت کرتے سناکہ بے شک دنیا دارالعمل ہے جس نے دنیا کو نقصان پہنچایا، اس سے کنارہ کش رہا وہ کامیاب ہوگیا اور اس کی صحبت سے فائدہ اٹھایااور جس نے دنیا میں رغبت رکھتے اور اس سے محبت کرتے ہوئے اس کی صحبت اختیار کی وہ بدبخت اور بارگاہِ الٰہی سے ملنے والے حصے سے محروم ہوگیا، پھر (آخرت میں) دنیا اسے عذابِ الٰہی کے سپرد کردے گی کہ جس پرنہ تو صبر ہوسکے گا اور نہ ہی اسے برداشت کرنے کی طاقت ہوگی۔ دنیا کا معاملہ بہت چھوٹا، اس کا ساز وسامان بہت تھوڑا اور اس کا فنا ہونا لکھا جاچکاہے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہی اس کی میراث کا مالک ہے۔ دنیادار ایسے ٹھکانوں کی طرف پھر جائیں گے جو نہ تو بوسیدہ ہوں گے اور نہ ہی زیادہ ٹھہرنے کی وجہ سے ان میں کسی قسم کی تبدیلی ہوگی کہ وہاں سے نکل سکیں اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی کے پاس طاقت نہیں کہ ان ٹھکانوں سے نکال سکے پھر یہی وطن ہوگا، لہٰذا دنیا سے بچو! اور جس جگہ لوٹ کرجانا ہے اسے کثرت سے یاد کرو۔
اے ابن آدم! دنیا سے زیادہ امیدیں وابستہ کرنا چھوڑدے ورنہ دنیا کے ساتھ وابستہ تیری امیدوں کو ختم کردیا جائے گا۔ جس مقصد کے لئے تجھے پیدا کیا گیا ہے اس کا ذکر بھی تجھ سے منقطع ہوجائے گا اور تیرا دل حق بات قبول کرنے سے کجی اختیار کرے گا پھر تو دنیا کی طرف مائل ہوجائے گا جس کے نتیجے میں دنیا تجھے ہلاک کردے گی۔ دنیوی ٹھکانے بہت بُرے ہیں۔ ان کا نقصان ظاہر ہے۔ ان کا نفع ختم ہونے والا ہے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! دنیا اپنے چاہنے والوں کو طویل شرمندگی اور سخت عذاب کی طرف لے جائے گی۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعرفۃ والتاریخ، سنۃ مائۃ، ج۳، ص۳۴۲تا۳۴۶۔