Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
220 - 603
 میزبانی کی، اسے ہرقسم کی راحت پہنچائی تو یہ تیرا گواہ ہوگا، تیری تعریف کرے گا اور تیرے معاملے میں سچائی سے کام لے گا لیکن اگر اس کی اچھی طرح میزبانی نہ کی اور اسے راحت نہ پہنچائی تو یہ تیری آنکھوں میں کھٹکتا رہے گا۔ یہ دو دن ان دو بھائیوں کی طرح ہیں جن میں سے ایک نے تیرے پاس قیام کیا لیکن تو نے اس کے ساتھ اچھا سلوک نہ کیا، اپنے اور اس کے درمیان اچھے تعلقات قائم نہ کئے، اس کے بعد دوسرا آنے والا کہتا ہے کہ میں تیرے پاس اپنے بھائی کے بعد آیا ہوں، لہٰذا اگر تو نے میرے ساتھ اچھا سلوک کیا تو یہ میرے بھائی کے ساتھ کئے جانے والے برے سلوک کا کفارہ او ر جو کچھ تو نے کیا اس کی بخشش کا باعث ہوگا۔ اگر تو عقل مند ہے تو اس بات کو غنیمت سمجھ کہ جب وہ تجھ سے آکر کہے کہ میں اپنے رخصت ہونے والے بھائی کے بعد تیرے پاس آیا ہوں اور تو بعد میں آنے والے کو پانے میں کامیاب ہوگیا ہے، لہٰذا اس کے ساتھ اچھا سلوک کر تاکہ جو دن تونے ضائع کردیا اس کی کمی بھی پوری ہو جائے لیکن اگر پہلے کی طرح دوسرا بھی گزر گیا تو (پھر جان لے کہ) اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے تجھے اس لئے پیدا نہیں کیا کہ یہ دن تیرے خلاف گواہی دیںاور تو ہلاکت میںمبتلا ہو جائے۔ عمر کے بقیہ ایام کی نہ تو کوئی قیمت ہے اور نہ ہی کوئی چیز ان کے برابر ہوسکتی ہے۔ اگر ساری دنیا جمع کردی جائے تو بھی وہ انسان کی عمر کے بقیہ ایام کے برابر نہیں ہوسکتی، ان ایام کو ضائع نہ کر اور بے قیمت دنیا کے عوض نہ بیچ۔ کیونکہ قبروں میں چلے جانے والے زیادہ تعظیم والے نہیں ہوجاتے جو کچھ تیرے قبضہ میں ہے وہ تجھ سے اور تیرے لئے ہے(لہٰذا جو کرنا ہے ابھی کرلے)۔
	میری عمر کی قسم (۱)! اگر مدفون شخص سے کہا جائے کہ دنیا ابتدا وانتہا سے تیری اولاد کے لئے ہو جو تیرے بعد ناز ونعم میں زندگی گزارے اور تیرے لئے کچھ بھی نہ ہو، تجھے یہ پسند ہے یا یہ کہ تجھے ایک دن کی زندگی عطا کردی جائے تاکہ اپنی نجات کے لئے کچھ عمل کرلے تو یقیناً وہ اس ایک دن میں رغبت رکھتے اور اس کی تعظیم کرتے ہوئے اسے ساری دنیا پر ترجیح دے گا بلکہ اگر وہ ایک ساعت پر اقتصار کرے جو صرف اس کے لئے ہو تو یہ اس دنیا اور اس جیسی چار گنا سے بھی بہتر ہے جو ابتدا تاانتہا اس کے علاوہ کے لئے ہے بلکہ صرف ایک کلمہ جو وہ کہے تو (اس کا ثواب) اسی کے حق میں لکھا 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مفسرشہیر،حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد4، صفحہ337 پر فرماتے ہیں: لعمری (یعنی میری عمر کی قسم) قسم شرعی نہیں، وہ تو صرف خدا کے نام کی ہوتی ہے، بلکہ قسم لغوی ہے جیسے رب تعالیٰ فرماتاہے: وَالتِّیۡنِ وَ الزَّیۡتُوۡنِ ۙ﴿۱﴾ (پ۳۰، التین:۱) انجیر اور زیتون کی قسم۔ لہٰذا یہ اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں ارشاد ہوا کہ غیرخدا کی قسم نہ کھاؤ۔