Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
219 - 603
	اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اگر کوئی شخص دنیا کی کسی چیز کو حاصل کرنے کا ارادہ کرے اور اسے بغیر تلاش ومحنت کے حاصل کر لے تو پھر بھی اس چیز کے متعلق اس پر حُقوقُ اللّٰہ لاگو ہوں گے، اس سے اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا اور اسے حساب وکتاب کے لئے کھڑا کیا جائے گا۔ لہٰذا عقل مند کو چاہئے کہ سوال وجواب اور حساب وکتاب کی مشقت سے بچنے کے لئے دنیامیں سے صرف بقدر ضرورت ہی غذا حاصل کرے کیونکہ جب تو دنیا کے معاملہ میں غور وفکر کرے گا تو دنیا (تیری نظر میں) تین دن ہی ہوگی: ایک دن وہ جو گزر گیا جس سے تو کوئی امید وابستہ نہیںکر سکتا۔ دوسرا وہ دن جس میں تو موجود ہے۔ لہٰذا اسے غنیمت جان اور تیسرا آنے والا دن کہ جس کے بارے میں تو جانتا نہیں کہ اس دن تو دنیا میں موجود ہوگا یا نہیں، ہوسکتاہے کہ تیسرادن آنے سے پہلے ہی تو موت کا شکار ہوجائے ۔ چنانچہ، گزشتہ دن مودب حکیم کی طرح ہے۔ آج کا دن الوداع ہونے والے دوست کی طرح ہے۔ گزشتہ دن اگرچہ تجھے تکلیف پہنچی لیکن اس کی حکمت ابھی بھی تیرے ہاتھ میں باقی ہے۔ سابقہ دن اگرچہ تو ضائع کر چکا لیکن بطورنیابت آج کادن تیرے پاس ہے جو کافی عرصہ تجھ سے غائب رہا اور اب جلد ہی کوچ کرنے والا ہے اور آنے والے دن کی صرف آرزو خواہش ہی ہے، لہٰذا عمل پر بھروسا کر اور موت آنے سے پہلے امید کے دھوکے سے جان چھڑا لے اور آج، آیَندہ آنے والے دن یابعد کے دنوں کی فکر چھوڑ ورنہ تیرے غم میں اضافہ ہوگا اور تھکاوٹ بڑھ جائے گی اور تو ارادہ کرے گا کہ آج کچھ جمع کرلے جو آنے والے دنوں میں تجھے کفایت کرے۔ اس طرح مصروفیت بڑھ جاتی، غم میں اضافہ ہوجاتا اور تھکاوٹ بڑھ جاتی ہے پھر بندہ امید کی وجہ سے عمل کو ضائع کر بیٹھتا ہے۔ اگر آئند ہ کل کی امید تیرے دل سے نکل گئی تو عمل کے اعتبار سے تیرا آج کا دن بہتر رہااور تونے اپنے آج کے دن کے ارادے پر اکتفا کیا کیونکہ کل کی امید تجھے تفریط کی طرف لے جاتی اور طلب میںمزید زیادتی کا مطالبہ کرتی ہے۔
	اگر تم اقتصار چاہو تو میں تمہارے سامنے دنیا کے اوصاف بیان کروں۔ دنیا دو ساعتوں میں سے ایک ساعت کا نام ہے۔ ایک وہ جو گزر گئی۔ ایک وہ جو آنے والی ہے اور ایک ساعت وہ ہے جس میں تو موجو د ہے۔ لہٰذا جو گزر گئی اور جو آنے والی ہے ان کی راحت میں تو نے کوئی لذت اور آزمایش میںکوئی درد والم نہیں پایا کیونکہ دنیا تووہ ساعت ہے جس میں تو موجود ہے اور یہ ساعت تجھے جنت سے دھوکا دے کر جہنم کی طرف لے جارہی ہے۔ اگر تو عقل مند ہے تو جان لے کہ آج کا دن آنے والے اس مہمان کی طرح ہے جو تجھ سے رخصت ہوجائے گا۔ لہٰذا اگر تو نے اس کی اچھی طرح