Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
218 - 603
	یہ وہ بابرکت ہستیاں ہیں کہ جنہوں نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ناپسندیدہ چیز کو ناپسند جانا اور جسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے حقیر جانا انہوں نے بھی اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھا، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے جس چیز سے بے رغبتی اختیار کرنے کا حکم دیا انہوں نے اس سے بے رغبتی اختیار کی، صالحین نے بھی انہی کے طور طریقے کو اختیار کیا، انہی کے نقش قدم پر چلے، سخت محنت و کوشش اور کثرت سے گریہ وزاری خود پر لازم کرلی اور غور وفکر سے لطف اندوز ہوئے، فنا کی طرف لے جانے والے دھوکے پر تھوڑی مدت صبر کیا، دنیا کی ابتدا کے بجائے اس کے انجام پر نظر رکھی، جلد حاصل ہونے والی لذت کے بجائے اختتام کی کڑواہٹ کو مدنظر رکھا۔ پھر ا پنے نفس پر صبر کو لازم کرلیا اور دنیا کو اس مردار کی طرح سمجھا جسے صرف مجبوری کی حالت میں بقدر ضرورت ہی کھانا جائز ہے، لہٰذا انہوں نے دنیا میں سے اس قدر ہی کھایا جس سے سانس چلتی رہے، روح باقی رہے، زندگی کا سلسلہ جاری وساری رہے اور دنیا کو اس مردار کی طرح سمجھا جو سخت بدبودار ہوتا ہے کہ اس کے قریب سے گزرنے والا بدبو کے باعث ناک بند کر لیتا ہے، لہٰذا صالحین بحالت ِ مجبوری ہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیںاور بدبو کی وجہ سے سیر بھی نہیں ہوتے، دنیا ان سے دور ہی رہتی ہے اور ان کے نزدیک بھی اس کا یہی مقام ہے (کہ وہ بھی اس دور رہتے ہیں)۔ یہ حضرات دنیاوی نعمتوں سے پیٹ بھرنے اور لذت حاصل کرنے والوں پر تعجب کرتے ہوئے دل ہی دل میں کہتے ہیں: انہیں کیا ہوگیا ہے کہ یہ سیر ہوکر کھانے سے نہیں ڈرتے ؟ کیا انہیں بدبو نہیں آتی؟
	اے بھائی! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! دنیا آخرت میں مردار سے بھی زیادہ بدبودار ہوگی مگر کچھ لوگ جلدباز ہوتے ہیں کہ انہیں بدبو نہیں آتی۔ اسی طرح وہ شخص جو بدبودار ماحول میں پروان چڑھا ہو اسے بھی بدبو محسوس نہیں ہوتی اور بدبودار چیز کے پاس بیٹھے ہوئے شخص کو بھی بدبو کا احساس نہیں ہوتا حالانکہ گزرنے والوں کو بدبو سے تکلیف ہوتی ہے۔ عقل مند کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جو شخص کثیرمال چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوا اسے یہ بات خوش کرتی ہے کہ کاش! وہ دنیا میں فقیر ہوتا یا شریف خواہش کرے گا کہ کاش! وہ کمتر ہوتا یا جو عافیت میں تھا وہ چاہے گا کہ کاش! مصائب میں مبتلا ہوا ہوتا یا جو صاحبِ اقتدار ہے وہ کہے گا کہ کاش! میں عام آدمی ہوتا۔ جب تم دنیا سے جاؤگے تو تم بھی یہی خواہش کرو گے کہ کاش! میںدنیاداروں کے نزدیک کمتر ہوتا اور ان سے زیادہ فقر وفاقہ کا شکار ہوا ہوتا۔ کیا عقل مند کے لئے دنیا کے رسوا و ذلیل ہونے کے لئے بطورِ دلیل یہی کافی نہیں ہے؟