لئے دنیا کے مصائب و آلام کو عذاب بنادیتا لیکن اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے دنیا کو حقیر جانا اس لئے نہ اس میں طاعت پر ثواب رکھا اور نہ ہی نافرمانی پر عذاب(بلکہ ثواب و عذاب کا معاملہ آخرت میں رکھا) اور اس کے شر پر اس طرح راہ نمائی فرمائی کہ انبیائے کرام اور اولیائے عظام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دنیا سے الگ رکھا اور دیگر لوگوں کے لئے بطورِ عبرت وآزمایش اسے پھیلا دیا۔ لیکن دنیا کے دھوکے اورآزمایش میں مبتلا شخص یہ خیال کرتا ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے دنیا (کی آسائشوں) کے ذریعے اسے عزت بخشی ہے اور یہ بھول جاتا ہے کہ حضور سیِّدعالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللّٰہ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کس طرح زندگی بسر فرمائی۔ آقائے دوجہاں، محبوب ِ رحمن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تو بھوک کے باعث پیٹ پر پتھر باندھے اور حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللّٰہعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھوک کے باعث اتنے کمزور ہوگئے تھے کہ پیٹ کی جھلی سے ترکاری کا سبز رنگ دکھائی دیتا تھا، جس دن آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے سائے میں پناہ لی تھی اس دن اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے صرف اتنے کھانے کا سوال کیا تھا جس سے بھوک مٹ جائے۔ حضرت ِ سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں مروی روایات میں ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ اے موسیٰ! جب فقر کو اپنی جانب آتے دیکھو تو کہو کہ صالحین کے شعار کو مرحبا اور جب مال ودولت کو اپنی طرف آتے دیکھو تو کہو کہ کسی لغزش پر عتاب جلدی ہو گیا۔ اگر چاہو تو حضرت ِ سیِّدُنا عیسٰی روحُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے مماثلت اختیار کرو ان کا معاملہ بھی بڑا عجیب ہے۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام فرمایا کرتے تھے کہ میرا سالن بھوک، میرا شعار خوف، میرا لباس اون، میری سواری میرے پاؤں، رات کے اندھیرے میں میرا چراغ چاند ہے، سردیوں میں میری انگیٹھی سورج کی دھوپ ہے، میرے پھل اور پھول وہ ہیں جو زمین درندوں اور چوپایوں کے لئے اگاتی ہے، رات سوتا ہوں تو میرے پاس کچھ نہیںہوتا اور مجھ سے زیادہ مالدار بھی کوئی نہیں ہوتا۔ اگر چاہو تو حضرت ِ سیِّدُنا سلیمان بن داؤد عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سیرت میں غور وفکر کرو ان کا معاملہ بھی عجیب تھا۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام خود جو کی روٹی کھاتے، اہل وعیال کو بے چھنے آٹے کی روٹی کھلاتے جبکہ لوگوں کو عمدہ کھانا کھلاتے اور جب رات کا اندھیرا چھا جاتا تو ٹاٹ کا لباس زیب تن کرتے، ہاتھوں کو گردن سے باندھ لیتے اور ساری رات گریہ وزاری کرتے گزار دیتے۔ الغرض آپ عَلَیْہِ السَّلَام سادہ کھانا تناول فرماتے اور اونی لباس زیب تن فرماتے تھے۔