خوشی میں بھی غم کی ملاوٹ ہوتی ہے۔ دنیاوی زندگی کا انجام بڑھاپا وکمزوری ہے، لہٰذا دنیا کو بے رغبتی اختیار کرنے والے کی نظر سے دیکھو اس پر مرمٹنے والے عاشق کی نظر سے نہ دیکھو اور اچھی طرح جان لو کہ دنیا ٹھکانے وسکونت کو زائل کر دیتی ہے۔ امن حاصل کرنے والے مغرور کو تکلیف پہنچاتی ہے۔ جو ایک بار دنیا سے چلا گیا وہ واپس نہیں آیا اور کوئی نہیں جانتا کہ دنیا میں کون آنے والا ہے کہ اس کا منتظر رہے۔
دنیا سے ڈور کیونکہ اس کی امیدیں جھوٹی اور آرزوئیں باطل ہیں۔ اس کی زندگی تنگ اور اس کی صفائی ونکھار میں گدلا پن ہے۔ تم دنیا میں ہمیشہ خطرے میں ہو کہ یاتو زا ئل ہونے والی نعمت کا سامنا ہوگا یا آنے والی آفت یا تکلیف دہ مصیبت میں مبتلا ہوگے یا پھر فیصلہ کرنے والی موت کا شکار ہوگے، لہٰذا گر عقل مند ہو تو جان لو کہ معیشت تنگ پڑگئی ہے۔ نعمتوں کے معاملہ میں خوف ہے۔ آزمایش سے بچنا ہے اور موت کا یقین ہے۔ اگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے دنیا کے بارے میں آگاہ نہ کیا ہوتا، اس کے لئے مثال بیان نہ کی ہوتی اور زہد وتقویٰ اختیار کرنے کا حکم نہ دیا ہوتا تو پھر بھی یہ سونے والے کو جگا چکی اور غافل کو تنبیہ کر چکی ہوتی۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ڈانٹ اور وعظ ونصیحت آچکی ہے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک دنیا کے حقیر ہونے کی وجہ سے اس کی کوئی قدر وقیمت اور وزن نہیںحتی کہ اس کے نزدیک یہ کنکریوں سے زیادہ بے وزن اور مٹی سے زیادہ بے وقعت ہے۔ نیز اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں مخلوق میں سب سے زیادہ مبغوض وناپسندیدہ چیز دنیا ہے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے جب سے اسے پیدا فرمایا ہے اس کے ناپسند ہونے کی وجہ سے اس کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائی اور حضور نبی ٔپاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دنیا کے تمام خزانوں کی چابیاں پیش کی گئیں اور عطا فرما نے میں مچھر کے پر برابر بھی کمی نہیں کی گئی لیکن پھر بھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے قبول نہ فرمایا جبکہ اسے قبول کرنے نہ کرنے کا اختیار دیا گیا تھا اور قبول کرنے کی صورت میں بارگاہِ الٰہی میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مرتبے میں بھی میں کسی قسم کی کمی واقع نہ ہوتی مگرچونکہ آپ جانتے تھے کہ دنیا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک ناپسندیدہ، حقیر اور بے وقعت ہے، لہٰذا آپ نے بھی اسے ناپسندیدہ، حقیر اور بے وقعت جانا۔ اگر اسے قبول فرمالیتے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قبول فرمانا ہی اس کی محبت کی دلیل ہوتی، لہٰذا آپ نے ناپسند جانا کہ جو چیز اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک مبغوض وحقیر ہے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس سے محبت کریں اور اسے عزت دیں۔
اگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ دنیا کا حقیر ہونا بیان نہ فرماتا تو فرمانبرداروں کے لئے اس کی بھلائی کو ثواب اور نافرمانوں کے