بعد میں آنے والا پہلے والے کے انجام سے نصیحت نہیں پکڑتا، عقل مند کثیر تجربات سے بھی نفع نہیں اٹھاتا، معرفت ِ الٰہی رکھنے اور (ذات باری تعالیٰ کی) تصدیق کرنے والا دھوکے باز دنیا کی معلومات ملنے پر بھی نصیحت حاصل نہیں کرتا، دنیاکی محبت دلوں میں رچ بس گئی اور نفس اس پر مرے جارہے ہیں۔ ہم یہی چاہتے ہیں کہ دنیا ہم سے عشق ہی کرے اور جو کسی کے عشق میں مبتلا ہو تو اسے اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں سوجھتا پھر یاتو اس کی طلب میں وہ موت کا شکار ہوجاتا ہے یا اسے پانے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور یہ دونوں ہی (یعنی دنیاکے عشق میں کامیاب ہونے اور موت کا شکار ہونے والا) دونوں ہی دنیا کے عاشق اور چاہنے والے ہیں۔ عاشق تو یقیناً اسے پاکر بھی دھوکا کھا جاتا اور سرکش بن جاتا اور اپنی ابتدا وانتہا کو فراموش کر دیتا ہے۔ اس کی عقل حواس باختہ ہوکر دنیا کی محبت میں ہی گم رہتی ہے حتی کہ اس کے قدم پھسل جاتے اور موت تمام قیدوبند کے ساتھ اس کے پاس آجاتی ہے۔ پس اس کی شرمندگی میں اضافہ ہوتا، حسرت بڑھ جاتی، علاج کے باوجود تکلیف میں شدت آجاتی، موت درد والم کی سختی لئے اس پر جمع ہوجاتی اور اس پر رنج وغم کی کیفت طاری ہو جاتی ہے۔ نیز جن جن تکالیف کا اسے سامنا کرنا پڑتا ہے وہ ناقابل بیان ہیں۔ دوسرا شخص اپنی حاجات دل میں لئے، غم وتکلیف میں مبتلا مطلوب کو حاصل کئے بغیرہی دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے ۔ اس کا نفس تھکاوٹ و مشقت سے آرام نہیں پاتا۔ یہ دونوں ہی توشہ آخرت لئے بغیر دنیا سے رخصت ہوئے اور بغیرٹھکانے کے وارد ہوئے۔
دنیا سے اچھی طرح محتاط رہو کیونکہ یہ اس سانپ کی مانند ہے جو چھونے میں تونرم محسوس ہوتا ہے لیکن اس کا زہر قاتل ہے۔ لہٰذا دنیا میں جو چیز تمہیں پسند آئے اس سے اعراض کرو کیونکہ دنیا میں تمہیں بہت تھوڑا عرصہ رہنا ہے اور چونکہ تم دنیا کی تکالیف کا مشاہدہ کر چکے ہو اس لئے اس کے غموں کو خود پر سے اتار پھینکو اور اس کی جدائی کا یقین کرلو۔ آخرت میں آسانی وراحت کے حصول کے لئے دنیا سے وہی برتاؤ کرو جو یہ تمہارے ساتھ کرتی ہے۔ دنیا کی فانی نعمتوں سے خوش ہونے کے بجائے اس سے پہنچنے والے مصائب سے ہوشیار رہو کیونکہ دنیادار جب بھی اس (کی فانی نعمتوں ) سے لطف اندوز ہوکر راحت وسکون محسوس کرتا ہے تو یہ اسے کسی ناپسندیدہ چیزکے ذریعے بے قرار کردیتی ہے او ر دنیا کے حصول میں کامیاب ہونے والا جب بھی اسکی تعریف و توصیف کرتا، اس پر خوشی مناتا ہے تو کامیابی ختم ہوجاتی ہے۔ پس دنیا کے حصول میں خوش ہونے والادرحقیقت دھوکے میں ہے، اس سے نفع اٹھانے والا روز قیامت نقصان میں ہوگا۔ دنیا کا راحت و سکون مصائب و آلام کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔ دنیا کی بقا درحقیقت فنا ہے۔ اِس کی