Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
214 - 603
کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہمارے اعمال پر مطلع ہے۔‘‘ مزید فرماتے: ’’میں تم لوگوں سے کسی چیز کو قبول نہیں کروں گا۔ اے ابن آدم! تیرے لئے ہلاکت ہو کیا تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے جنگ کرنے کی طاقت رکھتا ہے؟ بے شک جو شخص اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کرتا ہے گویا وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے جنگ کرتا ہے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں نے 70بدری صحابہ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے ملاقات کاشرف حاصل کیاہے ان میں سے اکثر اونی لباس زیب تن کیاکرتے تھے۔ اگر تم انہیں دیکھتے تو دیوانہ سمجھتے اور اگر وہ تمہارے نیک لوگوں کو دیکھتے توکہتے کہ ان کے لئے بھلائی سے کچھ حصہ نہیں اور اگر تمہارے بدکاروں کو دیکھ لیتے توکہتے کہ یہ لوگ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے۔ میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے کہ جن کے نزدیک دنیا پاؤں کی مٹی سے بھی زیادہ حقیر تھی، اگر ان میں سے کوئی سفر پر روانہ ہوتا تو اس کے پاس صرف تھوڑا سا کھانا ہوتا لیکن وہ پھر بھی یہ کہتا کہ میں یہ سارا کھانا اپنے پیٹ کا ایندھن نہیں بناؤں گا بلکہ اس میں سے بھی ضرور کچھ نہ کچھ راہ خدا میں صدقہ کروں گا۔ پھر اس میں سے کچھ صدقہ کردیتا اگرچہ یہ خود اس کا زیادہ حاجت مند ہوتا۔‘‘  (۱)
نصیحتوں بھرا مکتوب:
(1793)…حضرت ِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن ابی اسود عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے امیرالمؤمنین حضرت ِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْعَزِیْز کو خط لکھا (جس کا مضمون کچھ یوں ہے):
	اچھی طرح جان لو! (آخرت کے معاملے میں) غور وفکر کرنا نیکی کی دعوت دینے اور اس پر عمل کرنے پر ابھارتا ہے اور برائی پر ندامت اس کے ترک پر ابھارتی ہے۔ فنا ہونے والی چیز اگرچہ کثیرہی کیوں نہ ہو ہمیشہ باقی رہنے والی چیز کے برابر نہیں ہوسکتی اگرچہ اس کی طلب عزیز ہی کیوں نہ ہو۔ اس ختم ہونے والی سختی کو برداشت کرنا جس کے بعد طویل راحت و آرام میسر ہو جلد ختم ہونے والی راحت سے بہتر ہے جس کے بعد طویل سختی کا سامنا کرنا پڑے، لہٰذا دنیا سے بچو جو پچھاڑنے والی، اپنی زیب وزینت سے لوگوں کو دھوکا دینے والی، چاہنے والوں کو امیدیں دلاکر قتل کرنے والی ہے۔دنیا اپنی جانب متوجہ ہونے والوں کے لئے خوب آراستہ ہوکر اس دلہن کی طرح ہوجاتی ہے جس کی طرف نگاہیں اٹھتی، لوگ اس پر عاشق ہوتے اور دل اس سے والہانہ لگاؤ رکھتے ہیں۔عقل مندوں کو ورطۂ حیرت میں مبتلا کر دیتی اور نکاح کے بعد اپنے تمام شوہروں کو بے دردی سے قتل کردیتی ہے۔ باقی رہنے والا گزرے ہوئے سے عبرت حاصل نہیں کرتا،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تہذیب الکمال، الرقم:۱۲۱۶، باب الحاء، الحسن بن ابی الحسن، ج۶، ص۱۱۲-۱۱۳۔