لگی جس طرح مریض کی عیادت کی جاتی ہے۔ صحتیابی کے بعد ایک دن فرمانے لگے: میں نے خواب میں اپنے بھائی امام ابن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کو ایک محل میں عمدہ حالت میں دیکھ کر پوچھا: ’’اے بھائی! میں آپ کو ایسی حالت میں دیکھ رہا ہو جس سے مجھے خوشی ہورہی ہے لیکن یہ بتائیے کہ حضرت ِ سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے ساتھ کیا معاملہ کیا گیا؟‘‘ فرمایا: ’’انہیں مجھ پر 90درجے فضیلت دی گئی۔‘‘میں نے وجہ پوچھی تو فرمایا: ’’انہیں یہ مرتبہ ہر وقت غمگین رہنے کی وجہ سے عطا کیا گیا۔‘‘ (۱)
(84-1783)…حضرت ِ سیِّدُنا عبیداللّٰہ بن شمیط رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے والد بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت ِ سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کو فرماتے سناکہ ’’مؤمن صبح وشام غمزدہ حالت میں کرتا ہے۔ اسے موت بھی غمزدہ حالت میں آتی ہے۔ دنیا سے اسے اتنی ہی مقدار کافی ہے جتنی بکری کے ایک بچے کی (خوراک) ہوتی ہے یعنی مٹھی بھر کھجور اور ایک گھونٹ پانی۔‘‘ (۲)
(1785)…حضرت ِ سیِّدُنا حزم بن ابی حزم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کو فرماتے سنا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! مؤمن کے لئے اپنے دین کے معاملے میںغمزدہ رہنے کے علاوہ کسی چیزکی گنجائش نہیں۔‘‘ (۳)
(1786)…حضرت ِ سیِّدُنا ابراہیم بن عیسیٰ یشکری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی فرماتے ہیں کہ ’’میں نے حضر ت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے زیادہ غمگین کسی کو نہیں دیکھا۔ جب بھی انہیں دیکھا یہی سمجھا کہ یہ ابھی ابھی کسی مصیبت کا شکارہوئے ہیں۔‘‘ (۴)
(1787)…حضرت ِ سیِّدُنا ابومروان بشر رحال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَلَال سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’جسے موت، قیامت اور بارگاہِ الٰہی میں حاضری کا یقین ہو اسے چاہئے کہ وہ ان کے بارے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۶۴۴۴، محمد بن سیرین، ج۵۳، ص۲۴۲، بتغیر۔
2…الزہدللامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۴۴۷، اخبارالحسن بن ابی الحسن، ص۲۶۹۔
3…موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا، کتاب الہم والحزن، الحدیث:۱۷۲، ج۳، ص۲۹۲، بتغیر۔
4…الزہدللامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۴۴۹، اخبارالحسن بن ابی الحسن، ص۲۶۹۔