حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی
ابوسعید حضرت سیِّدُنا حسن بن ابی الحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیبھی تابعین میں سے ہیں۔ آپ ہروقت خوف خدا سے لرزاں وترساں رہتے، غم واندوہ سے انسیت حاصل کرتے اور نیند واونگھ سے کوسوں دور رہتے تھے۔ فقیہ، زاہد، عبادت کے لئے ہروقت کمربستہ رہنے والے، دنیا کی فضولیات اور حسن وزیبائی سے کنارہ کش تھے۔ نیز آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے نفس کی خواہشات اور اس کے غرور وگھمنڈ پر ہمیشہ مہلک ضرب لگائی۔
علمائے تصوُّف فرماتے ہیں: جنت ِ عدن میں دائمی بقا کے حصول کے لئے بدن کو ظاہری وباطنی میل کچیل سے پاک وصاف رکھنے کا نام تصوُّف ہے۔
(1779)…حضرت ِ سیِّدُنا محمد بن جحادہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’اچھائیاں چلی گئیں اور برائیاں رہ گئیں اب مسلمانوں میں سے جو بھی باقی ہے وہ مغموم ہی ہے۔‘‘ (۱)
مومن کے صبح وشام:
(1780)…حضرت ِ سیِّدُنا عمران بن خالد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَاحِد بیان کرتے ہیں کہ حضرت ِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’مومن صبح وشام غمزدہ حالت میں کرتا ہے اوراس کے لئے اس کے علاوہ کسی چیز کی گنجائش نہیں کیونکہ اسے ہروقت دو چیزوں کا خوف رہتا ہے: (۱)…اس گناہ کا جو اس سے سرزد ہوا اور وہ نہیں جانتا کہ اس کے سبب اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کے ساتھ کیا معاملہ فرمائے گا (۲)…موت کا خوف جس سے عنقریب واسطہ پڑے گا اور وہ نہیں جانتا کہ اس وقت اسے کن کن ہلاکت خیزیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘ (۲)
(82-1781)…حضرتِ سیِّدُنا حجاج بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغفََّار بیان کرتے ہیں کہ حضرت ِ سیِّدُنا حکم بن حجل اور حضرت ِ سیِّدُنا امام ابن سیرین رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کی آپس میں گہری دوستی تھی۔ جب حضرت ِ سیِّدُنا امام ابن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن کا وصال ہوا تو حضرت ِ سیِّدُنا حکم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پر اس قدر غم طاری ہوا کہ ان کی یوں عیادت کی جانے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہدللامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۴۴۶، اخبارالحسن بن ابی الحسن، ص۲۶۹۔
2…الزہدللامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۴۴۷، اخبارالحسن بن ابی الحسن، ص۲۶۹۔
الزہدلابن مبارک، باب الہرب من الخطایا، الحدیث:۳۰۴، ص۱۰۲۔