Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
210 - 603
 اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: میں تمہیں حدیث سناتا ہوں۔ چنانچہ، حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لولاک، سیاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتاہے: میری خاطر آپس میں محبت کرنے والے میری محبت کے مستحق ہوگئے۔ میری رضا کی خاطر آپس میں ملاقات کرنے والے میری محبت کے مستحق ہوگئے اور میری رضا کی خاطر ایک دوسرے کو نصیحت کرنے والے بھی میری محبت کے مستحق ہوگئے۔‘‘  (۱)
آخری سانس تک عبادت کرتے رہو!
(1778)…حضرت ِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ تاجدارِرسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: مجھے یہ وحی نہیں کی گئی کہ مال جمع کروں اور تاجروں میں سے ہو رہوں (۲) لیکن مجھے یہ وحی کی گئی ہے کہ اپنے رب کی تسبیح بولو اور سجدہ کرنے والوں میں ہو اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو حتی کہ تمہیں موت آجائے۔‘‘  (۳)
تُوْبُوْااِلَی اللّٰہ!	اَسْتَغْفِرُاللّٰہ
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!	صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث معاذ بن جبل، الحدیث:۲۲۱۴۱، ج۸، ص۲۵۱۔
2…مفسرشہیر،حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد7، صفحہ39 پر اس کے تحت فرماتے ہیں: میری زندگی کا مقصد تجارت اور مال جمع کرنا نہیں۔ میری زندگی کا مقصدتبلیغِ نبوت اور اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) کی اطاعت ہے۔ اپنے پاس بقدرِ ضرورت کبھی مال رکھنا تجارت کرنا اسی کے تابع ہے۔ لہٰذا یہ حدیث اُن احادیث کے خلاف نہیں جن میں ہے کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فتح خیبر کے بعد اَزواجِ پاک کو سال بھر کا خرچ عطا فرمادیتے تھے یا یہ کہ حضور انور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے تجارت، بکریاں، چرانے کا کام کیا ہے۔ ظہورِ نبوت کے بعد حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے چیزیں خریدیں ہیں فروخت بھی کی ہیں۔ مگر وہ سب عارضی چیزیں تھیں۔ حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی زندگی پاک کا مقصد وہ تھا جو آگے ارشاد ہو رہا ہے۔ لہٰذا حضرت عثمان غنی (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) اور دوسرے صحابۂ کرام (رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن) کا تجارتیں کرنا۔ مال جمع کرنا ممنوع نہیں تھا۔ اگر مال جمع نہ کیا جاوے تو زکوٰۃ و حج و عمرہ وغیرہ عبادتیں کیسے کی جاسکتی ہیں۔ کام کرنا اور ہے کام میں مشغول ہوجانا کچھ اور۔
3…الزھد للامام احمد بن حنبل، زھدعبید بن عمیر، الحدیث:۲۳۱۶، ص۳۸۶۔