Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
209 - 603
 سے پوچھا: ’’یہ نوجوان کون ہے؟‘‘ اس نے بتایا: ’’یہ حضرت ِ سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں۔‘‘ میرے دل میں ان کی محبت پیداہوگئی۔ میں ان کے پاس ٹھہرارہا حتی کہ لوگ اپنے اپنے گھر وں کولوٹ گئے۔ میں جلدی سے آگے بڑھا تودیکھا کہ حضرت ِ سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک ستون کی آڑمیں نماز ادا فرما رہے ہیں۔ میں بھی نماز پڑھ کے بیٹھ گیا، پیٹھ اور پنڈلیوں کوچادرسے باندھ لیا۔ (نمازسے فراغت کے بعد) حضرت ِ سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی تشریف فرما ہوگئے۔ کچھ دیرنہ تومیں نے ان سے کوئی گفتگو کی اور نہ ہی انہوں نے مجھ سے کوئی گفتگوکی۔ پھر میں نے عرض کی: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے محبت کرتا ہوں۔‘‘ انہوں نے پوچھا: ’’تم مجھ سے کیوں محبت کرتے ہو؟‘‘ میں نے عرض کی: ’’میںرضائے الٰہی کی خاطر آپ محبت کرتا ہوں۔‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مسرت بھرے انداز میں میری چادر کھینچ کرفرمایا: اگر تم اپنے قول میں سچے ہو تو تمہیں مبارک ہوکیونکہ میں نے رسول اکرم ،نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشادفرماتے سناکہ ’’ (اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:) میری خاطر آپس میں محبت کرنے والوں کے لئے بروزِقیامت نور کے منبر ہوں گے ان (کے اس مقام ومرتبے) پر انبیائے کرام وشہدائے عظام بھی رشک کریں گے (۱)۔‘‘ حضرت سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں کہ میں وہاں سے نکلا تو میری ملاقات حضرت ِ سیِّدُنا عبادہ بن صامت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ہوئی۔ میں نے ان سے عرض کی: ’’اے ابوولید ! (یہ ان کی کنیت ہے) میں آپ کو رضائے الٰہی کی خاطرآپس میں محبت کرنے والوں کے بارے میں حضرت سیِّدُنا معاذبن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی روایت کردہ حدیث نہ سناؤں؟‘‘ حضرت ِ سیِّدُنا عبادہ بن صامت رَضِیَ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مفسرشہیر،حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد6، صفحہ592 پر اس کے تحت فرماتے ہیں: یا تو یہاں غبطہ سے مراد ہے خوش ہونا۔ تب تو حدیث واضح ہے کہ حضرات انبیاء کرام (عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام) ان لوگوں کو اس مقام پر دیکھ کر بہت خوش ہوں گے اور ان لوگوں کی تعریف کریں گے (مرقات) اور اگر غبطہ بمعنی رشک ہی ہو تو مطلب یہ ہے کہ اگر حضرات انبیاء و شہداء (عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام) کسی پر رشک کرتے تو ان پر کرتے تو یہ فرضی صورت کا ذکر ہے(اشعۃ اللمعات) یا یہ رشک اپنی امت کی بنا پر ہوگا کہ امت محمدیہ میں یہ لوگ ایسے درجے میں ہیں کہ ہماری امت میں نہیں یا یہ مقصد ہے کہ وہ حضرات اپنی امت کا حساب کرارہے ہوں گے اور یہ لوگ آرام سے ان منبروں پر بے فکری سے آرام کررہے ہوں گے تو حضرات انبیاء کرام (عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام) ان لوگوں کی بے فکری پر رشک کریں گے کہ ہم مشغول ہیں یہ فارغ البال بہرحال اس حدیث سے یہ لازم نہیں کہ یہ حضرات انبیاء کرام (عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام) سے افضل ہوں گے (مرقات واشعہ وغیرہ)۔