سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی
سے مروی اَحادیث
غصہ دور کرنے کا وظیفہ:
(1776)…حضرت ِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ ایک بار امیرالمؤمنین حضرت ِ سیِّدُنا معاویہ بن ابی سفیان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے لوگو ں کو خطبہ دیاجبکہ دویا تین ماہ سے انہوں نے لوگوں سے عطیات روک رکھے تھے۔ حضرت ِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے ان سے کہا: ’’اے امیرالمؤمنین ! یہ مال (جو آپ نے لوگوں سے روک رکھاہے) نہ آپ کا ہے، نہ آپ کے والدکا اورنہ آپ کی والدہ کا۔‘‘ امیرالمؤمنین حضرت ِ سیِّدُناامیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے لوگوں کوصبرکی تلقین کی منبرسے اترے غسل کرکے واپس تشریف لائے اور فرمایا: اے لوگو! حضرت ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے سچ کہاکہ یہ مال نہ تومیراہے، نہ میرے والدکااورنہ میری والدہ کا۔ بے شک میں نے سرکارِ مدینہ ، راحت ِ وقلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے سناکہ ’’غصہ شیطان کی طر ف سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا کیاگیا ہے اور آگ پانی سے بجھتی ہے، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کرلے۔‘‘(یہ حدیث بیان کرنے کے بعد لوگوں سے کہا:) اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں برکت عطافرمائے! کل آکراپنے عطیات لے جانا۔ (۱)
رضائے الٰہی کی خا طر باہم محبت کرنے کا انعام:
(1777)…حضرت ِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بیان کرتے ہیں کہ ایک بار میں جامع مسجد دمشق میں داخل ہوا تومیں نے تقریبا ً30ادھیڑ عمر صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کوتشریف فرما دیکھاان میں سرمگیں آنکھوں اور چمکیلے دانتوں والا ایک نوجوان بھی تھاجو بالکل خاموش بیٹھاتھا۔ بزرگ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کو جب کسی بات میں شبہ ہوتا تواس نوجوان کی طر ف متوجہ ہوتے اوراس کے متعلق پوچھتے۔ میں نے اپنے پاس بیٹھے شخص
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن ابی داود، کتاب الادب، باب مایقال عندالغضب، الحدیث:۴۷۸۴، ص۱۵۷۵، بتغیر۔
تاریخ مدینہ دمشق، معاویہ بن صخر، ج۵۹، ص۱۶۹۔