تکبیر کہتے توزوجہ بھی تکبیر کہتی۔ ایک رات گھرتشریف لائے دروازے کے پا س تکبیر کہی لیکن اندرسے جواب نہ آیا، صحن میں پہنچ کر تکبیر کہی تب بھی کسی نے جواب نہ دیا، کمرے کے دروازے پر پہنچ کر تکبیر کہی توپھر بھی کوئی جواب نہ آیا۔ زوجہ محترمہ کایہ معمول تھاکہ آپ جب بھی گھرمیں داخل ہوتے تووہ آپ کی چادراور جوتے اٹھا کر رکھتیں پھر کھانا حاضر کردیتیںلیکن اس بارآپ گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ چراغ گل ہے اورزوجہ سر جھکائے لکڑی سے زمین کرید رہی ہیں پوچھا: ’’کیا حالت بنا رکھی ہے؟‘‘عرض کی: ’’امیرالمؤمنین حضرت ِ سیِّدُنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہاں آپ کوایک مقام ومرتبہ حاصل ہے ہمارے پاس خادم نہیں ہے، لہٰذاکام کاج کے لئے اگرایک خادم مانگیں گے تووہ عطافرمادیں گے۔‘‘حضرت سیِّدُناابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی: ’’اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! جس نے میری زوجہ کوبہکایاہے اسے اندھاکردے۔‘‘ روای کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے گھرتشریف لانے سے پہلے ایک عورت نے ان کی زوجہ کے پاس آکر کہا تھا کہ ’’امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہاں تمہارے شوہر کو مقام ومرتبہ حاصل ہے اگر تم ان سے کہو کہ وہ امیر المؤمنین سے ایک خادم مانگ لائیں تو وہ ضرور عطا فرمادیں گے پھر تم عیش وعشرت سے زندگی گزاروگی۔‘‘ چنانچہ، (دعا کا اثر یوں ظاہر ہواکہ) وہ عورت اپنے گھر میں ہی بیٹھی ہوئی تھی کہ اچانک اس کی بینائی جاتی رہی اس نے گھر میں موجود لوگوں سے کہا: ’’چراغ کیوں بجھ گیا؟‘‘ کہا: ’’چراغ تو نہیں بجھا۔‘‘ لہٰذا اسے اپنی خطا کا احساس ہوا اور روتی ہوئی فوراً حضرت ِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور عرض گزار ہوئی: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے دعاکیجئے کہ وہ میری بصارت لوٹا دے۔‘‘ چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے دعافرمائی تواس کی بینائی لوٹ آئی۔‘‘ (۱)
تُوْبُوْااِلَی اللّٰہ! اَسْتَغْفِرُاللّٰہ
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۷۴۵، ابو مسلم الخولانی، ج۴، ص۱۷۸-۱۷۹۔
تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۳۲۱۳، عبداللّٰہ بن ثوب، ج۲۷، ص۲۱۴۔