عَزَّوَجَلَّ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیاوہ تم ہی ہو؟‘‘ حضرت ِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے عرض کی: ’’جی ہاں! وہ میں ہی ہوں۔‘‘
راوی کا بیان ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور اپنے ساتھ لے آئے، پھر اپنے اور امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے درمیان بٹھا کر کہا: ’’تمام تعریفیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے مجھے اس وقت تک موت نہیں دی جب تک مجھے اپنے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ایسے امتی سے نہیں ملوایا جس کے ساتھ وہی سلوک کیاگیا جو حضرت سیِّدُنا ابراہیم خلیلُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ کیاگیا تھا۔‘‘ اس روایت کے ایک راوی اسماعیل بن عیاش کا بیان ہے: میں نے کچھ ایسے لوگوں کو دیکھا جو یمن سے بطور مدد جہاد کے لئے آئے تھے وہ عنس سے تعلق رکھنے والوںسے کہتے کہ ’’تمہارے ساتھی (ملعون اسود عنسی) نے ہمارے صاحب (حضرت سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی) کو آگ میں ڈالا لیکن آگ نے انہیں ذرا بھی نقصان نہ پہنچا یا۔‘‘ (۱)
مستجابُ الدَّعوات:
(1774)…حضرت ِ سیِّدُنا بلال بن کعب عکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی سے مروی ہے کہ اگر کبھی کوئی ہرن حضرت ِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے قریب سے گزرتا تو بچے عرض کرتے: ’’آپ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے دعاکیجئے کہ وہ ہمارے لئے ہرن کو روک دے تاکہ ہم اسے پکڑلیں۔‘‘ چنانچہ، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ دعا کرتے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہرن کو روک دیتا حتی کہ بچے اسے پکڑلیتے۔ (۲)
(1775)…حضرت ِ سیِّدُنا عثمان بن عطا ء رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی مسجد سے اپنے گھر تشریف لے جاتے تو دروازے پر پہنچ کربلندآواز سے تکبیر کہتے جواب میں زوجہ بھی تکبیرکہتی۔ جب گھر کے صحن میں پہنچتے توپھر تکبیر کہتے زوجہ بھی تکبیر کہتی جب کمرہ کے دروازے پر پہنچ کر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۳۲۱۳، عبداللّٰہ بن ثوب، ج۲۷، ص۲۰۱-۲۰۲۔
صفۃ الصفوۃ، الرقم:۷۴۵، ابو مسلم الخولانی، ج۴، ص۱۷۶۔
2…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۳۲۱۳، عبداللّٰہ بن ثوب، ج۲۷، ص۲۱۵۔