توجھانک کرپوچھا: ’’تم کون ہو؟‘‘ ہم نے بتایا: ’’ہم دمشق کے رہنے والے ہیں اور روم سے آرہے ہیں۔‘‘ اس نے پوچھا: ’’کیا تم ابومسلم خولانی کو جانتے ہو؟‘‘ ہم نے اثبات میں جواب دیا تو اس نے کہا: ’’جب تم ان کے پاس جاؤ تو انہیں میرا سلام کہنا اور بتانا کہ اپنی کتابوں میں ہم انہیں حضرت ِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللّٰہ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ والسَّلَام کا رفیق پاتے ہیں۔ (پھر کہنے لگا کہ) اگر واقعی تم انہیں جانتے ہو تو انہیں بقید ِحیات نہ پاؤ گے۔‘‘ راوی کا بیان ہے کہ ابھی ہم مقام غوطہ پرہی پہنچے تھے کہ ہمیں حضرت سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے انتقال کی خبرملی۔ (۱)
آگ نے نقصان نہ پہنچایا:
(73-1772)…حضرت ِ سیِّدُنا شرحبیل خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بیان کرتے ہیں کہ جب یمن میںاسود بن قیس ابن ذی الحمار عنسی نے نبوت کا دعویٰ کیا توحضرت ِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کو بلواکر پوچھا: ’’کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ محمد، اللّٰہ کے رسول ہیں؟‘‘فرمایا: ’’ہاں!‘‘ اس نے پوچھا: ’’کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللّٰہ کا رسول ہوں؟‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’مجھے سنائی نہیں دیتا۔‘‘ چنانچہ، اس نے آگ جلانے کا کہا جب آگ خوب بھڑک اٹھی تو حضرت ِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کو اس میں پھنکوا دیا لیکن آگ نے انہیں ذرا بھی نقصان نہ پہنچایا۔ ملعون اسود عنسی کے پیروکاروں نے اس سے کہا: ’’اگر تو نے انہیں اپنے شہر میں رہنے دیاتو یہ تیرے خلاف فساد برپا کردیں گے۔‘‘ اس نے انہیں جلاوطن کردیا۔ چنانچہ، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ جانب مدینہ ہجرت کرگئے اور مدینہ منورہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفاً وَّتَعْظِیْمًا اس وقت پہنچے جب پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وصال ظاہری فرماچکے اور امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مسندخلافت پر فائز ہوچکے تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سواری مسجد کے دروازے پر باندھ کر مسجد کے ایک ستون کے پاس جاکر نماز میں مشغول ہوگئے۔ امیرالمؤمنین حضرت ِ سیِّدُنا عمرفاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے انہیں دیکھا تو ان کے پاس آکر پوچھا: ’’کہاں سے آئے ہوں؟‘‘ عرض کی: ’’یمن سے۔‘‘ پوچھا: ’’دشمن خدا ملعون اسود عنسی نے ہمارے اس ساتھی کے ساتھ کیاکیا جسے اس نے آگ میں ڈلوایا تھا لیکن آگ نے اسے کچھ نقصان نہ پہنچایا؟‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے کہا: ’’وہ عبداللّٰہ بن ثوب ہیں۔‘‘ امیرالمؤمنین حضرت ِ سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’میں تمہیں اللّٰہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہدللامام احمد بن حنبل، الحدیث:۲۳۱۸، زہد عبید بن عمیر، ص۳۸۷۔