سواری تیار کرلو کیونکہ جہنم کے پل پرکوئی ایسی چیزنہیں کہ جس کے ذریعے اسے پار کیا جائے۔‘‘ (۱)
چار کی وجہ سے چار چیزیں قبول نہیں:
(1769)…حضرت ِ سیِّدُنا سفیان بن عبدالملک بن عمیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے فرمایا: ’’چار چیزوں کی وجہ سے چارچیزیں قبول نہیں ہوتیں: دھوکا دینے، (ناحق) یتیم کا مال کھانے، خیانت کرنے اور چوری کرنے کی وجہ سے جہاد، حج، عمرہ اور صدقہ قبول نہیں کیا جاتا۔‘‘ (۲)
سب سے بڑے دشمن:
(1770)…حضرت ِ سیِّدُنا شرحبیل بن مسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا کعب الاحبار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ السَّتَّار نے حضرت سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے پوچھا: ’’آپ اپنی قوم کو اپنے لئے کیسا پاتے ہیں؟‘‘ کہا: ’’اے ابواسحاق! (یہ حضرت سیِّدُناکعب الاحبار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ السَّتَّار کی کنیت ہے) انہوں نے مجھے جلا وطن کیالیکن میرا احترام بھی کرتی ہے۔‘‘ حضرت ِ سیِّدُنا کعب الاحبار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ السَّتَّار نے فرمایا: ’’اے ابومسلم! توریت میں تو اس طرح نہیں ہے۔‘‘ پوچھا: ’’اے ابواسحاق! پھر توریت میں کیا ہے؟‘‘ فرمایا: ’’توریت میں لکھا ہے کہ نیک وصالح شخص کے سب سے بڑے دشمن اس کی قوم کے لوگ ہوتے ہیں اور قریبی رشتے دار اس کے ساتھ زیادہ جھگڑتے ہیں۔‘‘ حضرت ِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے کہا: ’’توریت میں سچ لکھاہے۔‘‘ (۳)
سیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے رفیق:
(1771)…حضرت ِ سیِّدُنا محمد بن شعیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ اپنے ایک دمشقی شیخ سے روایت کرتے ہیں کہ ملک روم سے واپسی پرحمص سے ہوتے ہوئے ہم نے دمشق کا رخ کیا تورات کے آخری حصہ میں ہم حمص سے چار میل کے فاصلہ پر واقع عمیر نامی علاقے کے قریب سے گزرے تووہاں گرجے میں موجودایک راہب نے ہماری باتیں سنیں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۹۴۸۴، ام مسلم الخولانیۃ، ج۷۰، ص۲۶۵۔
2…المصنف لعبد الرزاق، باب ما اقل الحج…الخ، الحدیث:۸۸۷۱، ج۵، ص۱۵۔
المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزہد، کلام ابی ادریس، الحدیث:۷، ج۸، ص۲۷۷۔
3…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۳۲۱۳، عبداللّٰہ بن ثوب، ج۲۷، ص۲۰۳، باختصار۔