عَلَـیْہ کی رکعات گننی شروع کیں ایک نے 300جبکہ دوسرے نے 400رکعات شمار کیں۔‘‘ (۱)
(1766)…حضرت ِ سیِّدُنا عطیہ بن قیس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی روم کی سرزمین میںجہاد میں مصروف تھے کہ اہل دمشق سے کچھ لوگ ملاقات کے لئے آئے انہوں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کواس حال میں پایاکہ اپنے خیمے میں گڑھاکھودکراس میں ایک کپڑا بچھایاہوااور اس پر پانی ڈال رکھا ہے اور روزے کی حالت میں بے چینی وبے قراری کی کیفیت سے دوچار ہیں۔ لوگو ں نے عرض کی: ’’سفر و جہادکی حالت میں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے روزہ نہ رکھنے کی رخصت دی ہے پھر آپ کواس حالت میں کس چیزنے روزہ رکھنے پر ابھارا؟‘‘ حضرت سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے فرمایا: ’’اگر جنگ شروع ہوگئی تو میں افطار کر کے جنگ پر قوت حاصل کروں گا کیونکہ موٹے تازے گھوڑے منزل تک نہیں پہنچتے لیکن سدھائے ہوئے دبلے پتلے طاقتور گھوڑے بآسانی منزل پر پہنچ جاتے ہیں۔ بے شک ہمارے سامنے کچھ ایام ہیں جن کے لئے ہمیں عمل کرتے رہناچاہئے۔‘‘ (۲)
(1767)…حضرت ِ سیِّدُنا عثمان بن ابی عاتکہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے معمولات میں سے ایک معمول یہ بھی تھاکہ انہوں نے اپنی مسجد میں ایک چابک لٹکا رکھا تھا اور فرماتے: ’’چوپاؤں سے زیادہ میں اس کا حقدار ہوں۔‘‘جب کچھ سستی محسوس کرتے تو اپنی پنڈلی پر چابک سے ایک یا دو ضربیں لگاتے اورفرماتے: ’’ اگرمیں جنت یاجہنم کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلوں تب بھی اپنے عمل میں کچھ اضافہ نہ کرسکوں گا(کیونکہ آپ کا سارا وقت عبادت میں گزر تا تھا)۔‘‘ (۳)
سواری تیار کرلو!
(1768)…حضرت ِ سیِّدُنا سلیمان بن یزید عدوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی بیان کرتے ہیں کہ حضرت ِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے اپنی زوجہ حضرت سیِّدَتُنا ام مسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہَا سے فرمایا: ’’اے ام مسلم! (اعمال کی)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہدللامام احمد بن حنبل، الحدیث:۲۳۲۵، زہد عبید بن عمیر، ص۳۸۸۔
2…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۷۴۵، ابو مسلم الخولانی، ج۴، ص۱۷۷۔
3…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۳۲۱۳، عبداللّٰہ بن ثوب، ج۲۷، ص۲۰۵۔
صفۃ الصفوۃ، الرقم:۷۴۵، ابو مسلم الخولانی، ج۴، ص۱۸۰۔