حضرت ِ سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور دعا دیتے ہوئے فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے۔‘‘ (۱)
(1763)…حضرت ِ سیِّدُنا ابوقلابہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے فرمایا: ’’امام وپیشواکی مثال ایسی ہے جیسے ایک بہت بڑاپاک وصاف پانی کا چشمہ ہو اس کا پانی ایک بڑی نہر میں گرتا ہو لوگ نہر میں داخل ہوکر اسے گدلا کردیتے ہوں چشمے کا صاف پانی پھر نہر میں گرے تو گدلاپن ختم ہوجائے لیکن اگر گدلاپن چشمے ہی میں ہوتوساری کی ساری نہرخراب ہوجائے گی۔‘‘ پھر ایک اور مثال دیتے ہوئے فرمایا: ’’امام، پیشوا اور لوگوں کی مثال اس خیمے کی طرح ہے جو ستونوں کے بغیر قائم نہیں رہ سکتااور ستون میخوں کے بغیر نہیں ٹھہرسکتے کہ جب بھی کوئی میخ نکل جاتی ہے توستون کمزور پڑجاتا ہے اسی طرح لوگ امام وپیشوا کے بغیر اور امام وپیشوا لوگوں کے بغیر درست وقائم نہیں رہ سکتا۔‘‘ (۲)
دنیا ومافیہا سے زیادہ محبوب:
(1764)…حضرت ِ سیِّدُنا عمر بن سیف خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت ِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کو فرماتے سنا کہ ’’میرا ایک بیٹا ہو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسے اچھی طرح پروان چڑھائے جب وہ جوان ہو جائے اور میرے لئے باعث فخر ہو تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کی روح قبض فرمالے تویہ مجھے دنیاومافیہا سے زیادہ محبوب ہے۔‘‘ (۳)
کثرت عبادت کاعالم:
(1765)…حضرت ِ سیِّدُنا شرحبیل بن مسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ دوشخص حضرت ِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے ملاقات کے لئے ان کے گھر گئے،اہل خانہ نے بتایاکہ آپ مسجدمیں ہیں۔ چنانچہ، دونوں مسجد میں آئے تو انہیں نماز میں مشغول پاکر ان کے نماز سے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ دونوں نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہدللامام احمد بن حنبل، الحدیث:۲۳۱۴، زہد عبید بن عمیر، ص۳۸۶۔
2…شعب الایمان، باب فی طاعۃ اولی الامر، الحدیث:۷۳۹۸، ج۶، ص۲۴۔
3…الزہدلابن مبارک، باب ذم الریاء والعجب، الحدیث:۴۶۶، ص۱۵۸۔