سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی لوگوں کے پاس جاجاکر انہیں اسلامی تعلیمات سے آگاہ کرتے۔ امیرالمؤمنین حضرت ِ سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وہاں تشریف لائے تو انہیں حضرت سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے بارے میں بتایاگیا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے انہیں بلوایاجب وہ تشریف لائے توآتے ہی پوچھا: ’’آپ کانام کیا ہے؟‘‘فرمایا: ’’معاویہ۔‘‘ حضرت ِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے فرمایا: ’’عنقریب آپ کو قبر میں جانا ہے، لہٰذا اگر آپ نیکی کریں گے تواس کی جزا پائیں گے اور اگر برائی کے مرتکب ہوئے تو سزا پائیں گے۔ اے امیرالمؤمنین! اگر آپ نے روئے زمین کے تمام لوگو ں کے ساتھ عدل وانصاف کیا لیکن کوئی ایک آپ کے ظلم کا شکار ہوگیا تو یہ ظلم آپ کے عدل وانصاف کو فنا کر دے گا۔‘‘ (۱)
(1761)…حضرت ِ سیِّدُنا شرحبیل بن مسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی جب کسی ویران مکان کے قریب ٹھہرتے تو فرماتے: ’’اے ویران مکان! تیرے رہائشی کہاں گئے؟ وہ تو چلے گئے لیکن ان کے اعمال باقی ہیں۔ ان کی خواہشات تو ختم ہوگئیں لیکن خطائیں باقی ہیں۔ اے ابن آدم! گناہ کو چھوڑنا توبہ کرنے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔‘‘ (۲)
(1762)…حضرت ِ سیِّدُنا یونس بن ہرم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جامع مسجد دمشق کے منبر پر تشریف فرما تھے کہ حضرت ِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے انہیں آواز دی اور کہا: ’’اے امیرالمؤمنین! (عنقریب) آپ قبر میں ہوں گے، لہٰذا اگر بھلائی کریں گے تواجر پائیں گے اور اگر بھلائی نہ کی تو کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔ یہ مت سوچنا کہ خلافت کا مقصد مال جمع کرنا اور اسے خرچ کرنا ہے بلکہ خلافت تو حق پر عمل کرنے ، عدل کے ساتھ فیصلہ کرنے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی خاطر لوگوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کانام ہے۔ اے امیرالمؤمنین! جب تک ہمارے چشمے صاف شفاف ہیں تب تک ہمیں نہروں کے گدلا ہونے کی کوئی پرواہ نہیں اور ہمارا چشمہ آپ ہیں۔ آپ عرب کے کسی قبیلہ کا خوف نہ کرنا ورنہ آپ کا خوف آپ کے عدل کو ختم کرے دے گا۔‘‘ جب حضرت ِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے اپنی گفتگو ختم کی تو امیرالمؤمنین
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہدللامام احمد بن حنبل، الحدیث:۲۳۲۲، زہد عبید بن عمیر، ص۳۸۷۔
2…الزہدللامام احمد بن حنبل، الحدیث:۲۳۲۴، زہد عبید بن عمیر، ص۳۸۸۔