Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
200 - 603
 جنت میں داخل ہوگی۔ دوسری قسم کا بآسانی مختصرسا حساب ہوگا اور تیسری قسم تھوڑی سی سزا کا سامنا کر کے جنت میں داخل ہوگی، لہٰذا میں نے ارادہ کیا کہ میں پہلی قسم میں سے ہوں اگر ان میں شامل نہ ہوسکا تو ان میں سے ہوں جن کا تھوڑا سا حساب وکتاب ہوگا اور اگر ان میں سے بھی نہ ہوسکا تو ان لوگوں میں ہوں جو تھوڑی سی سزا کا سامنا کرکے داخلِ جنت ہوں گے۔‘‘  (۱)
سیِّدُنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کو نصیحت:
(1759)…امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْعَزِیْز کے محافظ حضرت سیِّدُنا ابوعبداللّٰہ حرسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی بیان کرتے ہیں کہ ایک بار حضرت ِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس آکر کہا: ’’اے اجیر! اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ۔ لوگوں نے کہا: ’’یہ مزدور نہیں امیر ہیں۔‘‘ آپ نے پھر کہا: ’’اے اجیر!  اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ۔ لوگوں نے کہا: ’’یہ مزدور نہیں امیر ہیں۔‘‘ امیرالمؤمنین حضرت ِ سیِّدُناامیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’انہیں چھوڑدو یہ اچھی طرح جانتے ہیں یہ کیا کہہ رہے ہیں۔‘‘ حضرت سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے کہا: ’’اے امیرالمؤمنین! آپ کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے کسی کو اجیر رکھاہو اور اسے اس شرط پربکریاں چرانے کی ذمہ داری سونپی ہو کہ ا چھی طرح بکریوں کی دیکھ بھال کرے گاتاکہ اون اور دودھ میں اضافہ ہو۔ اگر وہ اچھی طر ح بکریاں چرائے کہ خوب اون بڑھے حتی کہ چھوٹی بکری بچے دینے کے قابل ہوجائے اورکمزورموٹی تازی ہوجائے تومالک اسے پوری مزدوری تو دے گاہی مگر خوش ہو کر مزید اضافے کے ساتھ دے گا اور اگر اس نے بکریوں کی اچھی طرح دیکھ بھال نہ کی یہاں تک کہ کمزور بکری ہلاک ہوگئی اور صحت مند کمزور کہ نہ تو اون میں اضافہ ہوا اور نہ ہی دودھ میں۔ تو مالک اس پر غضبناک ہوگا مزدوری تو درکنار اسے سزا دے گا۔‘‘ (یہ سن کر) امیرالمؤمنین حضرت ِ سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ جو چاہتا ہے وہ ہوکر رہتا ہے۔‘‘  (۲)
(1760)…حضرت ِ سیِّدُنا عبیداللّٰہ بن شمیط رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ِ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۳۲۱۳، عبداللّٰہ بن ثوب، ج۲۷، ص۱۹۸۔
2…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۳۲۱۳، عبداللّٰہ بن ثوب، ج۲۷، ص۲۲۳۔