آج کل کے لوگ خالص کانٹے ہیں جن میں پتو ں کا وجود تک باقی نہیں۔ اگر تم انہیں برا بھلا کہو تو وہ بھی تمہیںبرا بھلا کہیں گے۔ اگر تم ان سے جھگڑا کرو تو وہ بھی تم سے جھگڑا کریں گے۔ اگر تم انہیں ان کے حال پر چھوڑدو گے تو پھر بھی وہ تمہیں نہیں چھوڑیں گے۔‘‘ حضرت ِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن جبیر بن نضیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے حضرت سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے اسی کی مثل روایت بیان کی ہے اس میں اتنا زائد ہے کہ ’’اگر تم ان سے دور بھاگو تو پھر بھی وہ تمہیں پالیں گے۔‘‘ راوی کا بیان ہے کہ میں نے پوچھا: ’’اس وقت مجھے کیا کرناچاہئے؟‘‘ فرمایا: ’’اپنی عزت کو اپنے فقر کے دن (یعنی قیامت) کے لئے ہبہ کردو اور کچھ نہ لینے سے کچھ لے لینابہتر ہے۔‘‘ (۱)
حکیم الامت:
(53-1752)…حضرت ِ سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار بیان کرتے ہیں کہ حضرت ِ سیِّدُنا کعب الاحبار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ السَّتَّار نے حضرت ِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کو دیکھا تو پوچھا: ’’یہ کون ہے؟‘‘ لوگو ں نے بتایا: ’’یہ حضرت ِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی ہیں۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’یہ امت کو حکمت و دانائی سکھانے والے ہیں۔‘‘ (۲)
(1754)…حضرت ِ سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی فرماتے ہیں: میں نے حضرت ِ سیِّدُنا ابوہارون موسیٰ بن عیسیٰ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کو فرماتے سنا کہ ’’حضرت ِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی امت کے لئے باعث تقلید ہیں۔‘‘ (۳)
لوگ تمہیں دیوانہ سمجھیں:
(1755)…حضرت ِ سیِّدُنا یزید بن جابر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَافِر بیان کرتے ہیں کہ حضر ت سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کثرت سے باآوازِبلند ذکرکیا کرتے حتی کہ بچو ں کے ساتھ بھی بلند آواز سے تکبیریں کہتے اور فرماتے: ’’اللّٰہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۳۲۱۳، عبداللّٰہ بن ثوب، ج۲۷، ص۲۲۹۔
المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزہد، کلام ابی ادریس، الحدیث:۳، ج۸، ص۲۷۶۔
2…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۳۲۱۳، عبداللّٰہ بن ثوب، ج۲۷، ص۲۰۳۔
الزہدللامام احمد بن حنبل، الحدیث:۲۳۲۶، زہد عبید بن عمیر، ص۳۸۸۔
3…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۳۲۱۳، عبداللّٰہ بن ثوب، ج۲۷، ص۲۰۳۔