Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
197 - 603
تم تو دنیادار نکلے:
(50-1749)…حضرت ِ سیِّدُنا علقمہ بن مرثد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں کہ آٹھ افراد ایسے ہیں جو زہد و تقویٰ کے اعلیٰ مرتبے پر فائز تھے۔ حضرت سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بھی ان میں سے ایک ہیں۔ آپ نہ توکبھی کسی کے پاس بیٹھتے اورنہ ہی کسی سے دنیاوی امورکے متعلق کوئی گفتگوکرتے اگرکہیں ان کی موجودگی میں دنیاوی گفتگو شروع ہوجاتی تو وہاں سے تشریف لے جاتے۔ ایک دن مسجد میں داخل ہوئے توکچھ لوگوں کو ایک جگہ جمع دیکھ کرخیال کیاکہ یہ ذکرخیرکے لئے جمع ہوئے ہوں گے۔ چنانچہ، ان کے پاس بیٹھ گئے۔ ان میں سے ایک نے کہا: ’’میرا غلام واپس آگیا اور وہ فلاں فلاں چیز لے کرآیا ہے۔‘‘ دوسرا بولا:’’میں نے اپنے غلام کو (سامان تجارت دے کر) تیار کر رکھا ہے۔‘‘ حضرت ِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے ان کی طرف دیکھ کر فرمایا: ’’سُبْحٰنَ اللّٰہ! میری اورتمہاری مثال اس شخص کی طرح ہے جوموسلادھاربارش میں پھنس جائے، اچانک اسے دو بڑے دروازوں والامکان نظر آئے تووہ کہے کہ جب تک بارش ختم نہیں ہوجاتی میں اس میں پناہ لے لیتا ہوں۔ جب اس میں داخل ہو تواس کی چھت ہی نہ ہومیں تمہارے پاس اس امیدپربیٹھاکہ تم ذکر وبھلائی میں مصروف ہوگے لیکن تم تو دنیا دار نکلے۔‘‘ جب حضرت ِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بوڑھے ہوگئے او رجوانی کی قوت باقی نہ رہی تو کسی نے عرض کی: ’’اگر آپ اپنی عبادت وریاضت میں کچھ کمی کر لیں تو بہتر ہے۔‘‘ فرمایا: ’’تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تم کسی گھڑ دوڑ میں چند گھوڑوں کو چھوڑو تو کیاتم شہسوار سے یہ نہیں کہتے کہ انہیں چھوڑدو اور ان سے نرمی برتو اور جب انتہا کو دیکھ لیتے ہو تو اس سے ایک قدم بھی آگے نہیںبڑھتے۔‘‘ لوگو ں نے عرض کی: ’’جی ہاں! ایساہی ہے۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’بے شک میں نے انتہا کو دیکھ لیا ہے۔ ہر کوشش کرنے والے کی ایک انتہا ہے اوروہ موت ہے۔ کوئی سبقت لے جانے والاہوتاہے توکوئی پیچھے رہ جانے والا۔‘‘  (۱)
بغیر کانٹوں کے پتے:
(1751)…حضرت ِ سیِّدُنا صفوان بن مسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں: ’’پہلے کے لوگ خالص پتو ں کی مانند ہوتے تھے جن میں کانٹوں کا نام ونشان تک نہ تھاجبکہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۷۴۵، ابو مسلم الخولانی، ج۴، ص۱۷۷۔