ملامت نہ کرے کہ تو نے ایسا کیوں نہ کیا؟ تونے یہ کیوں نہ کیا؟‘‘ (۱)
قبر پر انوار وتجلیات کی بارش:
(1746)…حضرت ِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے مروی ہے کہ ’’حضرت ِ سیِّدُناہرم بن حیان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْحَنَّان کا وصال انتہائی سخت گرم دن میں ہوا۔ جب لوگ انہیں دفن کر کے ہاتھ چھاڑنے لگے تو ایک بادل کا ٹکڑا آکر قبر پر ٹھہر گیا جو نہ قبرسے لمباتھانہ چھوٹااورپانی کی پھوارپھینکناشروع کردی جب قبرخوب سیراب ہوگئی تو واپس لوٹ گیا۔‘‘ (۲)
(1747)…حضرت ِ سیِّدُنا قتادہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ جس دن حضرت ِ سیِّدُناہرم بن حیان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْحَنَّان کودفن کیاگیااس دن ان کی قبر پر بارش ہوئی اورقبر پر گھاس اُ گ آئی۔‘‘ (۳)
(1748)…حضرت ِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ جب حضرت ِ سیِّدُناہرم بن حیان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْحَنَّان کا وصال ہوا تو بادل کا ایک ٹکڑا آکر چارپائی پربطورِسائبان ٹھہرگیا،جب انہیں دفن کیا گیاتوبادل نے ان کی قبر پر یوں ہلکی سی پانی کی پھوار ڈالی کہ قبرکے اردگردکسی چیزپرایک بوندبھی نہ پڑی۔‘‘ (۴)
حضرتِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی
حضرت سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بھی تابعین کے طبقہ اُولیٰ میںسے ہیں۔ آپ نے دنیاوی غموں اور مصیبتوں سے علیحدگی اختیار کرکے اوراد ووظائف اور قربِ الٰہی سے دل کواطمینان بخشا۔ نیزامت کو حکمت ودانائی سیکھانے، ان کی نمائندگی کرنے، ہمیشہ خدمت خلق میں مصروف رہنے والے اور امت کو دنیاوی غم واندوہ سے آزادکرانے میں کوشاں رہتے تھے۔
علمائے تصوُّف فرماتے ہیں: ختم ہوجانے والی فانی دنیاسے علیحدگی اختیار کرنے اور بعد میں آنے اور باقی رہنے والی آخرت (کی یاد سے) دل کو سکون واطمینان پہنچانے کا نام تصوُّف ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہد للامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۲۹۱، اخبار مالک بن عبد اللّٰہ الخثعمی، ص۲۴۶۔
2…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۴۸۸، ہرم بن حیان العبدی، ج۳، ص۱۴۲۔
3…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۴۸۸، ہرم بن حیان العبدی، ج۳، ص۱۴۲۔
4…الزہد للامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۲۹۲، اخبار مالک بن عبد اللّٰہ الخثعمی، ص۲۴۷۔