Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
195 - 603
کروں۔البتہ اپنا قرض ادا کرنے کی وصیت کرتا ہوں میری ذرع بیچ کر قرض ادا کردینا اگر اس سے پورا نہ ہو تو میرا غلام بیچ دینا۔‘‘ لوگوں نے عرض کی: ’’اس کے علاوہ کیا وصیت کرتے ہیں؟‘‘ فرمایا: سورہ ٔ  نحل کی آخری آیات (تلاوت کرتے رہنے اوران پرعمل) کی وصیت کرتا ہوں (پھریہ آیات تلاوت فرمائیں:) اُدْعُ اِلٰی سَبِیۡلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحْسَنُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعْلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ وَ ہُوَ اَعْلَمُ بِالْمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۱۲۵﴾ وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوۡا بِمِثْلِ مَا عُوۡقِبْتُمۡ بِہٖ ؕ وَلَئِنۡ صَبَرْتُمْ لَہُوَخَیۡرٌ لِّلصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۲۶﴾ وَ اصْبِرْ وَمَا صَبْرُکَ اِلَّا بِاللہِ وَلَا تَحْزَنْ عَلَیۡہِمْ وَلَا تَکُ فِیۡ ضَیۡقٍ مِّمَّا یَمْکُرُوۡنَ ﴿۱۲۷﴾ اِنَّ اللہَ مَعَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا وَّالَّذِیۡنَ ہُمۡ مُّحْسِنُوۡنَ ﴿۱۲۸﴾٪ (پ۱۴، النحل:۱۲۵تا۱۲۸)
ترجمۂ کنزالایمان: اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو بے شک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے راہ والوں کو اور اگر تم سزا دو تو ویسی ہی سزا دو جیسی تکلیف تمہیںپہنچائی تھی اور اگر تم صبر کرو تو بے شک صبر والوں کو صبر سب سے اچھا اور اے محبوب ! تم صبر کر و اور تمہارا صبر اللّٰہ  ہی کی توفیق سے ہے او ران کاغم نہ کھاؤ اور ان کے فریبوں سے دل تنگ نہ ہوبے شک اللّٰہ ان کے ساتھ ہے جو ڈرتے ہیں اور جو نیکیاں کرتے ہیں۔  (۱)
گھروالوں کی تربیت:
(1744)…حضرت ِ سیِّدُنا محمد بن زید عبدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی بیان کرتے ہیں کہ حضرت ِ سیِّدُنا ہرم بن حیان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْحَنَّان جب اپنے اہل خانہ کوزیادہ ہنستے دیکھتے توانہیں نماز پڑھنے کاحکم دیتے۔‘‘
نفس مجھے ملامت نہ کرے:
(1745)…حضرت ِ سیِّدُنا ابن شوذب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا ہرم بن حیان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْحَنَّان نے فرمایا: ’’اگر مجھے کہا جائے کہ تم جہنمی ہو توپھربھی میں عمل کرناترک نہ کروں گاتا کہ میرا نفس مجھے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہد للامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۲۸۰، اخبار مالک بن عبد اللّٰہ الخثعمی، ص۲۴۴۔
	المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزہد، الشعبی، الحدیث:۳۰، ج۸، ص۲۸۴۔