Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
194 - 603
 اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جب حضرت ِ سیِّدُنا ہرم بن حیان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْحَنَّان کو گھوڑوں کی نگرانی کے عہدہ پر فائز کیاتو آپ   کو کسی شخص (کی شرعی غلطی کی وجہ سے اس) پرغصہ آگیا اور اسے قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ جب اسے قتل کردیا گیا تو اپنے ساتھیوں کی طر ف متوجہ ہوکر فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں جزائے خیرنہ دے! اس وقت تم نے مجھے نصیحت کیوں نہ کی۔ مجھے غصے سے کیوںبازنہ رکھا؟ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اب میں اس عہدے پرقائم نہیں رہوں گا۔‘‘ پھر امیرالمؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہ کو خط لکھا کہ ’’میں یہ ذمہ داری پوری نہیں کرسکتا، لہٰذا اس کام کی ذمہ داری کسی اورکو سونپ دیں۔‘‘  (۱)
(1740)…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا ہرم بن حیان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْحَنَّانکسی غزوہ میں امیرلشکرکی حیثیت سے شریک تھے۔ ایک شخص نے اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے اجازت طلب کی آپ بھی جانتے تھے کہ یہ ضرورت کی وجہ سے اجازت مانگ رہاہے، لہٰذا اسے اجازت دے دی ۔ چنانچہ، وہ گھروالوں کے پاس گیااور جتنا قیام کرنا تھا کرکے جب واپس آیا تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے پوچھا: ’’تم کہاں تھے؟‘‘ اس نے عرض کی: ’’میں نے فلاں دن آپ سے اجازت لے کر گیا تھا۔‘‘ فرمایا: کیا تم جس کام کا ارادہ رکھتے تھے اسی کے لئے گئے تھے؟‘‘ اس نے عرض کی: ’’جی ہاں!‘‘ حضرت ِ سیِّدُنا ابواشہب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں مجھے خبر ملی کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے اسے خوب ڈانٹا۔ ساتھیوں نے جب آپ کوغصے میں اس شخص کو ڈانٹتے اور برابھلا کہتے دیکھا تو کسی نے کچھ نہ کہا آپ نے ان سے کہا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں جزائے خیر نہ دے! تم دیکھ رہے ہو کہ میں اسے کتنابرابھلا کہہ رہاہوں پھر بھی تم مجھے اس سے نہیں روکتے۔‘‘ پھربارگاہِ الٰہی میں عرض کی: ’’اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! برے لوگوں کو برے زمانے کے لئے رکھ لے۔‘‘  (۲)
سیِّدُنا ابن حیان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان کی وصیت:
(43- 42- 1741)…حضرت ِ سیِّدُنا قتادہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں: ہمیں بتا یا گیاکہ جب حضرت ِ سیِّدُناہرم بن حیان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْحَنَّان کے وصال کاوقت قریب آیا تو ان سے عرض کی گئی: ’’کچھ وصیت کیجئے!‘‘ فرمایا: ’’میں نے اپنی حیات میں کثرت سے صدقہ وخیرات کئے ہیں اب میرے پاس کوئی ایسی چیزنہیں جس کی وصیت 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزہد، الشعبی، الحدیث:۳۲، ج۸، ص۲۸۴۔
2…الزہد للامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۲۸۲، اخبار مالک بن عبد اللّٰہ الخثعمی، ص۲۴۵۔