دوقسم کے لوگوں پرتعجب:
(1734)…حضرت ِ سیِّدُنا معلی بن زیاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد بیان کرتے ہیں کہ حضر ت سیِّدُناہرم بن حیان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّان رات میں کسی وقت گھرسے باہرتشریف لاتے اوربلندآواز سے فرماتے: ’’مجھے جنت پر تعجب ہے کہ اسے پانے والا کیسے بے فکری کی نیندسورہاہے اورجہنم پربھی تعجب ہے کہ اس سے بھاگنے والا کیسے غفلت کی نیند سو رہاہے۔‘‘ پھر یہ آیت ِمقدسہ تلاوت فرماتے:
اَفَاَمِنَ اَہۡلُ الْقُرٰۤی اَنۡ یَّاۡتِیَہُمْ بَاۡسُنَا بَیَاتًا وَّہُمْ نَآئِمُوۡنَ ﴿ؕ۹۷﴾ (پ۹، الاعراف:۹۷)
ترجمۂ کنزالایمان: کیا بستیوں والے نہیں ڈرتے کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو آئے جب وہ سوتے ہوں۔
اس کے بعد سورۂ عصر اور تکاثر کی تلاوت کرتے اورگھر لوٹ جاتے۔ (۱)
(1735)…حضرت ِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُناہرم بن حیان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْحَنَّان فرمایا کرتے تھے: ’’میں نے جنت جیسی کوئی چیزنہیں دیکھی جس کا طالب سورہاہے اورجہنم جیسی بھی کوئی چیز نہیں دیکھی جس سے بھاگنے والا سو رہاہے۔‘‘یہ بھی فرماتے کہ ’’اپنے دلوں سے دنیا کی محبت نکال کر آخرت کی محبت پیدا کرو۔‘‘ (۲)
کاش میں درخت ہوتا!
(1736)…حضرت ِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے مروی ہے کہ ایک بار حضرت ِ سیِّدُنا ہرم بن حیان اور حضرت ِ سیِّدُناعبداللّٰہ بن عامر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمَا حجاز کی جانب سفر کے ارادے سے نکلے دورانِ سفر ان کی سواریاں درختوں سے الجھنے لگیں حضرت سیِّدُناہرم بن حیان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّان نے حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عامر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَافِر سے پوچھا: ’’کیاآپ یہ پسندکرتے ہیں کہ آپ ان درختوں میں سے ایک درخت ہوتے؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’نہیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! ہم رحمت ِالٰہی کے امیدوار ہیں جو بہت وسیع ہے۔‘‘ دونوں میں سے بڑے فقیہ اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی زیادہ معرفت رکھنے والے حضرت ِ سیِّدُنا ہرم بن حیان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْحَنَّان نے کہا: ’’لیکن بخدا! میں یہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سیر اعلام البنلاء، الرقم:۳۷۹، ہرم بن حیان العبدی، ج۵، ص۹۰، باختصار۔
2…الزہد للامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۲۸۱، اخبار مالک بن عبد اللّٰہ الخثعمی، ص۲۴۵، باختصار۔