Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
191 - 603
کے خواہشمند، ریاکار، بیہودہ کھیل کود میں مبتلا شخص کی عبادت قبول نہیں فرماتا۔‘‘  (۱) آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک رات کسی کو گانا گاتے سنا تو فرمایا: ’’اس کی نماز قبول نہیں چاہے یہ اس کی مثل تین نمازیں پڑھ لے۔‘‘
حضرتِ سیِّدُنا ھَرِم بن حَیَّان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان
	حضرت سیِّدُنا ہرم بن حیان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّان کا شمار بھی تابعین کے طبقہ اُولیٰ میں ہوتا ہے۔ آپ محبت الٰہی میں سرگرداں وحیران رہتے اور نماز روزے کے پابند تھے۔ نیزآپ نے محبت الٰہی کے غم میں سلگتے ہوئے زندگی گزاری۔ جب انہیں دفن کیاگیاتورحمت الٰہی کی برسات سے قبر خوب سیراب ہوئی۔
	علمائے تصوُّف فرماتے ہیں: محبت الٰہی سے جدائی کے خوف میں جلتے رہنے اور دارِآخرت (یعنی جنت) کا مشتاق رہنے کانام تصوُّف ہے۔
قیامت کا خوف رلاتا رہا:
(1733)…حضرت ِ سیِّدُنا مطر وراق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق بیان کرتے ہیں کہ حضرت ِ سیِّدُنا ہرم بن حیان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّان نے ایک رات صحابی ٔرسول حضرت سیِّدُناحممہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہاں بسر کی۔ حضرت ِ سیِّدُناحممہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ساری رات گریہ وزاری میں گزاردی، صبح ہوئی تو حضرت سیِّدُناہرم بن حیان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّان نے عرض کی: ’’کیا چیز آپ کوساری رات رُلاتی رہی؟‘‘ فرمایا: ’’مجھے اس رات کی یاد آگئی جس کی صبح قبریں پھٹ جائیں گی اور ان میں موجود ہرچیز نکل رہی ہو گی۔ آسمان کے ستارے بکھرجائیں گے یہ خیال مجھے ساری رات رلاتارہا۔‘‘ راوی کا بیان ہے کہ (اس کے بعدسے) کافی عرصہ تک حضرت سیِّدُناہرم بن حیان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّان اور حضرت سیِّدُناحممہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دن کے وقت خوشبوؤں کے بازار جاتے، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے جنت کا سوال کرتے اور خوب دعائیں مانگتے پھرلوہارکے پاس آتے اوربھٹی کی بھڑکتی آگ دیکھ جہنم کی آگ سے پناہ مانگتے اور پھر اپنے اپنے گھرلوٹ جاتے۔‘‘  (۲)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…العلل المنتاھیۃ، حدیث فی انہ لایسمع من مرائی، الحدیث:۱۴۰۸، ج۲، ص۸۴۱۔
2…الزہد للامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۲۷۷، اخبار مالک بن عبد اللّٰہ الخثعمی، ص۲۴۴، باختصار۔