کرلی۔‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’تہائی قرآن پڑھنا یہ ہے کہ جو شخص (سونے سے پہلے) سورۂ اخلاص پڑھ لے تو گویا اس نے تہائی قرآن پڑھ لیا۔‘‘ (۱)
قرض دینا بھی صدقہ ہے:
(1730)…حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ حضرت ِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب، منزہ عن الْعُیُوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’بندہ بطورِ قرض کسی کو کوئی بھی چیز دیتا ہے تو اس کے عوض اس کے لئے صدقے کا ثواب لکھا جاتا ہے۔‘‘ (۲)
حفاظت ایمان کی فکر:
(1731)…حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ سرکارِمدینہ، راحت ِقلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’عنقریب لوگو ں پر ایسا زمانہ آئے گاکہ جس میں گو شہ نشینی اختیار کرناضروری ہوگی اور اس وقت صرف اس کادین سلامت رہے گا جوحفاظت ایمان کی فکرمیںایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑیاایک جگہ سے دوسری جگہ بھاگتاپھرے جس طر ح پرنداورلومڑی اپنے بچو ں کو لے کر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے ہیں۔‘‘پھرارشادفرمایا: ’’اس زمانہ میں وہ چرواہا بھلائی پرہوگا جو اپنے علم کے مطابق نماز پڑھے، زکوٰۃ اداکرے اور لوگوں سے الگ تھلگ رہے گا اوراس وقت مقام سلع پرچرنے والی سفید بکری مجھے بنونضیرکی بادشاہت سے زیادہ محبوب ہے اوریہ تمام اموراس وقت ہوں گے جب فلاں فلاں فتنوں کا ظہور ہوگا۔‘‘ (۳)
(1732)…حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ حضرت ِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیںکہ مکی مدنی سلطان، رحمت ِعالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ شہرت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر، الحدیث:۴۰۲۶، ج۴، ص۱۶۷۔
2…المعجم الصغیرللطبرانی، باب من اسمہ الحسین، الجزء الاول، ص۱۴۳، دون قول ’’یقرضہ الرجل یکتب‘‘۔
3…المطالب العالیۃ، کتاب الفتن، باب جوازالترھیب فی ایام الفتن، الحدیث:۴۳۶۶، ج۸، ص۵۹۷، بتغیر۔