سیِّدُنا ربیع بن خُثیْم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
سے مروی اَحادیث
انسان، امید اور موت:
(1727)…حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ حضرت ِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی ٔ پاک، صاحب ِ لولاک، سیاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک مربع خط کھینچا پھر اس کے درمیان ایک خط اوپر کو نکلتا ہوا کھینچا اور درمیانی خط کے دونوں جانب بہت سی لکیریں اور خطوط کھینچے پھر (فرمایا: ’’کیا تم جانتے ہویہ کیا ہے؟‘‘ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے عرض کی: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں۔‘‘) ارشاد فرمایا: ’’مربع خط موت، درمیانی خط انسان، مربع سے متجاوز خط انسان کی امید اور لکیریں مصائب وآلام ہیں جو ہرطرف سے اس کا پیچھا کررہے ہیںجب ایک سے جان چھوٹتی ہے تو دوسری مصیبت آجاتی ہے اور پھر امید بر آنے سے پہلے انسان موت سے ہم کنار ہوجاتا ہے۔‘‘ (۱)
تہائی قرآن کے برابر:
(1728)…حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بن خثیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ حضرت ِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیںکہ حضور نبی ٔکریم، رء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’تم اس سے عاجز ہوکہ ہررات تہائی قرآن پڑھ لیاکرو۔‘‘ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے عرض کی: ’’کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَد(پوری سورت) تہائی قرآن کے برابر ہے۔‘‘ (۲)
(1729)…حضرت ِ سیِّدُنا ابوایوب انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور سیِّددوعالم، شاہِ بن آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تین بار ارشاد فرمایا: ’’تم اس سے عاجز ہو کہ ہررات تہائی قرآن پڑھ لیاکرو۔‘‘ راوی کا بیان ہے کہ ’’ہم ڈرگئے کہ کہیں ہمیں اس چیز کا حکم نہ دے دیں جسے بجالانے سے ہم عاجز ہوں۔ ہم نے خاموشی اختیار
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب فی الامل وطولہ، الحدیث:۶۴۱۷، ج۴، ص۲۲۴، بتغیر۔
2…صحیح البخاری، کتاب فضائل القرآن، باب فضل(قل ھو اللّٰہ احد)، الحدیث:۵۰۱۵، ج۳، ص۴۰۷، عن ابی سعید خدری۔